سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 357
357 سبیل الرشاد جلد چہارم مومنین میں سے جو بہترین ہیں اُن کا معیار تو بہت بلند ہونا چاہئے کہ وہ ہر طرح کی لغویات سے اپنے آپ کو بچائیں۔نہ فضول گفتگو ہو، نہ ایسی مجلسیں ہوں جن میں بیٹھ کر ہنسی ٹھٹھا کیا جا رہا ہو۔بعض عہدیداران بھی ہوتے ہیں جو آپس میں بیٹھتے ہیں اور دوسروں کے متعلق باتیں کر رہے ہوتے ہیں۔ہنسی ٹھٹھا کیا جارہا ہوتا ہے۔پس ان سے بچنا چاہئے۔اور نہ ہی ایسی مجلسوں میں عہدیداروں کو شامل ہونا چاہئے جہاں دینی روایات کا خیال نہ رکھا جار ہا ہو۔۔۔۔۔۔عہد یدار غصہ کو دبانے والا ہو۔۔عہد یدار کی خاص طور پر ایک خوبی یہ بھی ہونی چاہئے کہ كَاظِمِينَ الْغَيْظَ ( آل عمران : 135) غصہ پر قابو ہو۔اللہ تعالیٰ نے یہ خاص حکم دیا ہے کہ بیشک بعض دفعہ بعض حالات میں غصہ کا اظہار ہو جاتا ہے لیکن غصہ کو دبانے والے ہوں۔جہاں جماعتی مفاد ہو گا، وہاں بعض دفعہ اصلاح کی غرض سے غصہ دکھانا بھی پڑتا ہے۔لیکن ذرا ذراسی بات پر غصہ میں آنا اور اپنے ساتھ کام کرنے والوں کی عزت کا خیال نہ رکھنا یہ ایک عہد یدار کے لئے کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے، نہ ہونا چاہئے۔بلکہ ایک اچھے عہد یدار کو اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو سامنے رکھنا چاہئے کہ قُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا (البقرة : 84) کہ لوگوں سے نرمی سے، ملاطفت سے، بشاشت سے ملو۔اگر عہد یداروں کے ایسے رویے ہوں تو بعض جگہوں سے عہد یداروں کے متعلق جو شکایات ہوتی ہیں وہ خود بخود ختم ہو جا ئیں۔عہد یدار ماتحتوں سے حسن سلوک کریں پھر ایک عہدیدار کی یہ خصوصیت بھی ہے کہ اُس کا اپنے ساتھ کام کرنے والوں کے ساتھ حسنِ سلوک ہو۔جماعت کے عہدے کوئی دنیاوی عہدے تو نہیں ہیں کہ افسران اور ماتحت کا سلوک ہو۔ہر شخص جو جماعت کی خدمت کرتا ہے چاہے وہ ماتحت ہو، ایک جذبے کے تحت جماعت کے کام کرتا ہے۔پس افسران کو اور عہدیداران کو اپنے ساتھ کام کرنے والوں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کرنا چاہئے۔اگر غلطی ہو تو پیار سے سمجھائیں، نہ کہ دنیاوی افسروں کی طرح سختی سے باز پرس ہو۔ہاں اگر کوئی اس قدر ڈھٹائی دکھا رہا ہے کہ جماعتی مفاد کو نقصان پہنچ رہا ہے تو پھر اس کو مناسب طریق سے جو بھی تنبیہ ہے وہ کریں یا باز نہیں آتا تو پھر اس سے کام نہ لیں۔بالا افسران کو اطلاع دیں۔بیشک فارغ کر دیں۔لیکن ایسی فضا پیدا نہیں ہونی چاہئے کہ بلا وجہ دفتروں میں یا کام کرنے والی جگہوں پر گروہ بندی کی صورتحال پیدا ہو جائے۔