سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 351 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 351

351 سبیل الرشاد جلد چہارم لیکن جن ملکوں کے میں نے نام لئے ہیں، اس دفعہ کے الیکشن کیلئے اگر کوئی تبدیلی کرنی ہوگی تو اس کے لئے بھی مجھ سے پہلے پوچھنا ہو گا۔یہاں سے منظوری لیں گے۔امراء خود تبدیلی نہیں کریں گے۔باقی پاکستان یا بھارت یا جو دیگر ممالک ہیں، وہ حسب قواعد مقامی انتخابات کے لئے منظوری کی کارروائی کر سکتے ہیں اور ہر ملک کی جو نیشنل عاملہ ہے اور بعض اور عہدیداران جو ہیں، اُن کی بہر حال یہیں مرکز سے منظوری لی جاتی ہے۔خلیفہ وقت سے منظوری لی جاتی ہے۔اس آیت میں تُؤَدُّوا الا منتِ إِلَى أَهْلِهَا (النساء: 59) کہا گیا ہے۔یہ عہدیداران کے لئے بھی ہے۔بعض عہدے یا بعض کام ایسے ہیں جو بغیر انتخاب کے نامزد کر کے سپرد کئے جاتے ہیں۔مثلاً سیکرٹری رشتہ ناطہ ہے، اس کا عہدہ ہے یا خدمت ہے یا بعض شعبوں میں بعض لوگوں کو کام تفویض کئے جاتے ہیں تو امیر جماعت یا صدر جماعت یا متعلقہ سیکر ٹری اگر کسی کو ایسے کام دیتے ہیں تو صرف ذاتی پسند اور تعلق پر نہ دیا کریں بلکہ افرادِ جماعت کا تفصیلی جائزہ لیں اور یہ جائزہ لے کر پھر اُن میں سے جو بہترین نظر آئے اُسے کام سپرد کرنا چاہئے ور نہ یہ خویش پر وری ہے اور اسلام میں نا پسند ہے۔لیکن اگر کوئی اپنے کسی دوست یا عزیز کو کوئی کام سپر د کرتا ہے اور اُس کی بظاہر اس کام کے لئے لیاقت بھی ہے تو پھر بعض لوگ جن کو اعتراض کرنے کی عادت ہے وہ بلا وجہ یہ اعتراض کر دیتے ہیں کہ اس نے اپنے قریبی کو فلاں عہدہ دے دیا۔اُن کو یہ اعتراض نہیں کرنا چاہئے۔کسی عہد یدار کا کسی امیر کا عزیز ہونا یا قریبی ہونا کوئی گناہ نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے اُس شخص کو خدمت سے محروم کر دیا جائے۔یہ بات میں نے اس لئے واضح کر دی کہ بعض لوگوں کی طرف سے اس طرح کے اعتراض آ جاتے ہیں۔عہد یداران انصاف کے ساتھ اپنے کاموں کو سرانجام دیں پھر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں عہدیداروں کو فرمایا ہے کہ اَن تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ کہ انصاف کے ساتھ اپنے عہدوں اور تفویض کردہ کاموں کو سرانجام دو۔اگر عدل نہیں ہوگا، انصاف نہیں ہوگا ، خویش پروری ہوگی یا قرابت داری کا لحاظ رکھا جائے گایا ایک کارکن سے ضرورت سے زیادہ باز پرس اور دوسرے سے بلا ضرورت صرف نظر ہوگی تو انصاف قائم نہیں رہ سکتا۔اور جب انصاف قائم نہ ہوتو پھر کام میں برکت نہیں پڑتی ، پھر اچھے نتائج کے بجائے بدنتائج نکلتے ہیں۔اسی طرح صرف کام کرنے والوں کا ہی معاملہ نہیں ہے بلکہ ہر فر د جماعت کے ساتھ انصاف پر مبنی تعلقات ہونے چاہئیں اور فیصلے اُس کے مطابق ہونے چاہئیں۔یہ نہیں کہ فلاں شخص فلاں کا دوست ہے یا فلاں کا عزیز ہے یا فلاں خاندان کا ہے تو اُس سے اور سلوک اور دوسرے سے اور سلوک۔اگر یہ باتیں ہوں تو یہ چیزیں پھر جماعت میں بے چینی پیدا کرتی ہیں۔اسی طرح جب خلیفہ وقت کی طرف سے رپورٹ کے لئے کہا جائے تو پھر رپورٹ بھی صحیح ہونی چاہئے کہ حکم تو نَحْكُمُوا بِالْعَدْل کا ہے۔