سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 333 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 333

333 سبیل الرشاد جلد چہارم انہیں پتہ چلا کہ امام مہدی علیہ السلام آچکے ہیں۔چنانچہ انہوں نے جستجو کی اور باقاعدگی سے دلچسپی۔پروگرام دیکھنے لگ گئے۔انہوں نے بتایا کہ ایک رات خواب میں دیکھا کہ دشمن مسلمانوں کے بہت قریب پہنچ گیا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز سے فرما رہے ہیں کہ اِنْهَضُوا لِلْحِهَادِ، إِنْهَضُوا لِلْحِهَادِ۔کہ جہاد کے لئے اُٹھ کھڑے ہو، جہاد کے لئے اُٹھ کھڑے ہو۔کہتے ہیں کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنتا ہوں تو میں خواب میں فوراً اُٹھ کھڑا ہوتا ہوں اور یہ کہتا ہوں کہ میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کروں گا۔اس کے بعد میں بیدار ہو گیا اور میرا دل زورزور سے دھڑک رہا تھا اور اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اس کی تعبیر ڈالی کہ میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کی بیعت کر کے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کر سکتا ہوں۔دوسرے خواب کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایک رات میں نے خواب میں دیکھا کہ آسمان پر بادل کے دو بڑے ٹکڑے ہیں۔اُن میں سے ایک ٹکڑا سفید رنگ کا ہے اور دوسرا سیاہ رنگ کا۔سیاہ رنگ کے بادل کے بڑے ٹکڑے کے پیچھے سیاہ رنگ کا ایک چھوٹا ٹکڑا بھی ہے،سفید بادل کا ٹکڑا اور سیاہ بادل کا بڑا ٹکڑا ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں۔پھر سفید رنگ کا بادل، سیارہ رنگ کے بادل سے ٹکراتا ہے اور سیاہ رنگ کا بادل ریزہ ریزہ ہو کر غائب ہو جاتا ہے۔پھر سفید بادل بڑے ٹکڑے کو شکست دینے کے بعد سیاہ بادل کے چھوٹے ٹکڑے کی طرف بڑھتا ہے تو سفید بادل جس میں لوگ سوار ہیں سے ، آواز آتی ہے کہ اس سے نہیں ٹکرانا، یہ رضوان ہے اور یہ ہم میں شامل ہو جائے گا۔اُزنین رضوان صاحب نے بتایا کہ خواب کے بعد میرے دل میں شدید تڑپ پیدا ہوگئی کہ میں جلد از جلد حضرت امام مہدی علیہ السلام کی جماعت میں شامل ہو جاؤں۔علاحسین صاحب عراق کے رہنے والے ہیں۔یہ لکھتے ہیں کہ جب سے میں نے بیعت کی ہے، مجھے ہر طرح کے امن وسلامتی اور سکون کا احساس ہو رہا ہے اور خدا تعالیٰ پر ایمان وایقان میں بھی اضافہ ہوا ہے۔اور یہ احساس ہوتا ہے کہ نہ صرف خدا تعالیٰ نے میرے گناہ بخش دیئے ہیں بلکہ اپنی محبت اور قرب میں بڑھایا ہے اور اب میں خدا تعالیٰ کی معیت میں ہوں اور میرے تمام اعضاء میں خدا تعالیٰ کی طرف سے برکت محسوس ہوتی ہے اور دین اسلام کی صداقت خوب کھل گئی ہے۔پھر یہ مجھے لکھ رہے ہیں کہ آج سے دو سال قبل میں نے رمضان کے آخری عشرے کے دوران خواب میں آسمان اور زمین کے درمیان پگڑی والے ایک شخص کو دیکھا تھا جس کی پگڑی کے اوپر سفید رنگ کے پر کے مشابہ کوئی چیز ہے۔اس شخص کا بڑا رعب ہے اور وہ فی البدیہہ طور پر اونچی آواز میں شعر یا نظم پڑھ رہا ہے جو میں سن رہا ہوں اور اپنے آپ میں ایسی گرمجوشی تسلی اور امن محسوس کرتا ہوں جس کا بیان ناممکن ہے۔میں اپنے دل سے اس کے اشعار سن رہا ہوں، نہ ظاہری کانوں سے۔اس شخص کے الفاظ اور عبارتیں کان میں ایسی پڑ رہی تھیں جیسے ٹھنڈا پاکیزہ پانی ہوتا ہے اور جو کلام میں