سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 16 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 16

سبیل الرشاد جلد چہارم 16 ترقی کی رفتار کئی گنا بڑھ جائے گی۔آپ نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ آخرین کا بھی یہی کام ہے جو صحابہ نے کیا اور صحابہ کے یہی پانچ اہم کام تھے، اور یہی ہم نے کرنے ہیں۔تبلیغ ہماری ذمہ داری ہے۔پیغام حق پہنچانا ضروری ہے۔اور اسلام اور احمدیت کا پیغام ہم نے بہر حال ہر صورت میں دنیا تک پہنچانا ہے اور اس کے لئے ہر طرح کی کوشش کرنی ہے۔انصار کی عمر ایک ایسی عمر ہے جس میں تبلیغ میں بہت ساری سہولتیں پیدا ہو جاتی ہیں اور اُس کی وجوہات ہیں۔طبیعت میں تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے، اس عمر میں جذبات پر کنٹرول بھی عموماً پیدا ہو جاتا ہے۔خیالات بھی میچور (Mature) ہو چکے ہوتے ہیں۔پھر علم اور تجربہ بھی اس حد تک ہو جاتا ہے جس سے وہ خود بھی فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔اور نو جوانوں کو بھی تبلیغ کے طریقے سکھا سکتا ہے۔تو اس لحاظ سے سب سے زیادہ انصار اللہ کو دعوت الی اللہ کے میدان میں سرگرم ہونا چاہئے۔پھر قرآن پڑھنا ہے۔اس میں بھی انصار کو خود بھی اس طرف توجہ دینی چاہئے اور اپنے بچوں کو بھی توجہ دلانی چاہئے کیونکہ جب تک ہم قرآن پڑھ کر سمجھ کر اس کی تعلیم کو اپنے پر اور اپنی نسلوں پر لاگو نہیں کریں گے ہمارے مستقبل کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔پھر شرائع کی حکمتیں بیان کرنا ہے جو احکامات ہیں اُن کو آگے بیان کرنا اس کے لئے بھی علم حاصل کرنا ضروری ہے۔انصار کی عمر میں اپنی تربیت تو مشکل ہے۔بچوں کی تربیت کی طرف توجہ دیں پھر تربیت ہے۔انصار اللہ کی عمر تو ایک ایسی عمر ہے جس میں آپ تربیت کر تو سکتے ہیں لیکن آپ کی تربیت کرنی مشکل ہے۔تو اس کے لئے بڑا آسان اصول ہے کہ آپ کے ذمہ جو فرض لگایا گیا ہے تربیت کرنے کا، اس کو پورا کریں، بچوں اور نو جوانوں کی تربیت کی طرف توجہ دیں۔اپنی بھی تربیت ساتھ ساتھ ہوتی جائے گی۔پھر قوم کی دنیوی کمزوریوں کو دور کرنا ہے۔اس طرف بھی اگر سب توجہ دیں گے تو اقتصادی لحاظ سے بھی اپنے آپ کو مضبوط بنائیں گے، جماعتی لحاظ سے بھی اور قومی لحاظ سے بھی۔تو مرکزی سطح پر بھی اور مقامی سطح پر بھی، ہر ذیلی تنظیم کی (انصار اللہ کی بھی ) شوری ہوتی ہے، وہاں اس کے لئے تجاویز دیں۔اپنے تجربہ سے دوسروں کو فائدہ پہنچائیں کیونکہ اقتصادی لحاظ سے مضبوط ہونا بھی آج کل کے زمانہ میں انتہائی ضروری ہے تا کہ پھر بے فکر ہو کر دین کی خدمت کر سکیں یا دین کی خدمت کرنے والوں کی ضروریات کا خیال رکھ سکیں۔تو یہ ساری باتیں ایسی ہیں جن پر انصار اللہ کو بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔جب آپ اس لحاظ سے سوچیں گے تو پھر ہی آپ اللہ کے دین کے انصار بن سکتے ہیں اور اس آیت کے مصداق ٹھہریں گے کہ " اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ کے انصار بن جاؤ جیسا کہ عیسی ابن مریم نے حواریوں نے کہا تھا کہ کون ہیں جو اللہ کی طرف راہنمائی کرنے میں میرے انصار ہوں۔حواریوں نے کہا ہم