سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 35
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول دو 15 سننا اور اطاعت کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے ایک حدیث میں آتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سننا اور اطاعت کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ خواہ وہ امر اس کو پسند ہویا ناپسند۔ یہاں تک کہ اسے معصیت کا حکم دیا جائے۔ اور اگر معصیت کا حکم دیا جائے تو پھر اطاعت اور فرمانبرداری نہ کی جائے۔ (صحیح بخارى كتاب الأحكام باب السمع والطاعة لامام ) تو جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ سوائے اس کے کہ شریعت کے واضح احکام کی خلاف ورزی ہو۔ ہر حال میں اطاعت ضروری ہے اور اس حدیث میں بھی یہی ہے۔ یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ تم گھر بیٹھے فیصلہ نہ کر لو کہ یہ حکم شریعت کے خلاف ہے اور یہ حکم نہیں۔ ہو سکتا ہے تم جس بات کو جس طرح سمجھ رہے ہو وہ اس طرح نہ ہو۔ کیونکہ الفاظ یہ ہیں کہ معصیت کا حکم دے، گناہ کا حکم دے۔ تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے نظام جماعت اتنا پختہ ہو چکا ہے کہ کوئی ایسا شخص عہدیدار بن ہی نہیں سکتا جو اس حد تک گر جائے اور ایسے احکام دے۔ تو بات صرف اس حکم کو سمجھنے ، اس کی تشریح کی رہ گئی۔ تو پہلے تو خود اس عہدیدار کو توجہ دلاؤ۔ اگر نہیں مانتا تو اس سے بالا جو عہدیدار ہے، افسر ہے ، امیر ہے ، اس تک پہنچاؤ۔ اور پھر خلیفہ وقت کو پہنچاؤ۔ لیکن اگر یہ تمہارے نزدیک برائی ہے تو پھر تمہیں یہ حق بھی نہیں پہنچتا کہ باہر اس کا ذکر کرتے پھرو۔ کیونکہ برائی کو تو وہیں روک دینے کا حکم ہے۔ اب تمہارا یہ فرض ہے کہ نظام بالا تک پہنچاؤ اور اس کے فیصلے کا انتظار کرو۔“ (خطبه جمعه فرموده 22 اگست 2003ء بحوالہ خطبات مسرور جلد 1 صفحہ (265)