سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 323
323 سبیل الرشاد جلد چہارم نسلوں سے احمدی ہے یا نیا شامل ہونے والا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سچائی کا ایک نشان ہے۔لیکن اب جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ واقعات کثرت سے ہوتے ہیں۔لاکھوں کی تعداد میں جماعت میں لوگ شامل ہوتے ہیں اور پھر شامل ہونے والے اپنے واقعات بھی بیان کرتے ہیں کہ کس طرح اُن کو شامل ہونے کی تحریک پیدا ہوئی، کیا وجہ ہوئی اُن کے احمدیت قبول کرنے کی۔اس کے بعد اُن میں کیا تبدیلیاں پیدا ہوئیں۔اور جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں جلسہ کی دوسرے دن کی تقریر میں جماعت کی ترقی کا یہ ذکر ہوتا ہے اور اُن میں مختلف لوگوں کے واقعات بھی میں بیان کرتا ہوں۔اب ان کی تعداد اتنی زیادہ ہوگئی ہے، اس کثرت سے مختلف لوگوں کے یہ واقعات آتے ہیں کہ ایک تقریر میں ان کا احاطہ کرنا مشکل ہوتا ہے۔جب میں یہ واقعات پڑھتا ہوں تو بعض اوقات دل کی عجیب کیفیت ہو جاتی ہے کہ کیسے کیسے لوگ اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل فرما رہا ہے اور اُن میں کس طرح تبدیلیاں پیدا فرما رہا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو دیکھ کر دل حمد سے بھر جاتا ہے۔نئے شامل ہونے والوں کے ایمان اور ایقان کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ کتنی جلدی ان لوگوں نے کتنی ترقی کی ہے اور بڑی تیزی سے مزید ترقی کی منازل طے کرتے چلے جار ہے ہیں۔نومبائعین کے ایمان افروز واقعات کا حسین تذکرہ بہر حال میں نے سوچا کہ آج اُس کیفیت میں آپ لوگوں کو بھی شامل کرنا چاہئے جو ان کے واقعات دیکھ کر ہوتی ہے۔جس کے لئے یہی طریق ہو سکتا ہے، جیسا کہ میں نے کہا کہ آپ کو آج شامل کروں اور مختلف اوقات میں مختلف مجالس میں ان کا ذکر کیا جاتا رہے جو ہر ایک کے لئے از دیا ایمان کا باعث بنتے ہیں۔انڈیا سے سروتر اجماعت جو گجرات میں ہے، اُس کے صدر اصغر بھائی صاحب لکھتے ہیں کہ جب سے وہ بیعت کر کے جماعت میں داخل ہوئے ہیں، مخالفین ہر طرح سے اُن کو تنگ کرتے رہتے ہیں۔جہاں اُن کی بیٹی کی شادی ہوئی تھی اُن لوگوں کو جب معلوم ہوا کہ یہ احمدی ہو گئے ہیں تو ان پر زور ڈالا کہ احمدیت چھوڑ بیٹی کے سسرال والوں نے شہر کے بڑے بڑے علماء کو اکٹھا کیا۔( انڈیا میں بھی بہت زیادہ مخالفت شروع ہو چکی ہے ) اور رات میٹنگ بٹھا کر کہا کہ یا تو احمدیت چھوڑ دو یا لڑکی کو اپنے ساتھ واپس لے جاؤ۔موصوف نے مخالفین کا مقابلہ کیا اور بڑی دلیری سے کہا کہ بیشک میری بیٹی واپس بھیج دو لیکن میں احمدیت نہیں چھوڑ سکتا۔وہیں رات کو بیٹھ کر طلاق لکھی گئی اور لڑکی کو طلاق دے کر صبح اپنے ماں باپ کے ساتھ بھیج دیا گیا۔یعنی ایک رات بھی یہ شادی نہیں چلی۔یہ اپنی بیٹی کو لے آئے لیکن اپنے ایمان پر کسی قسم کی آنچ نہیں آنے دی اور ثابت قدم رہے۔یہ اُن لوگوں کے لئے بھی سبق ہے جو بعض پرانے احمدی ہیں۔ذراذراسی بات پر ، رشتوں پر کوشش ہوتی