سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 322
322 سبیل الرشاد جلد چہارم ہے۔باقی یہ میرا کام ہے کہ شکایت کرنے والے کو کس طرح جواب دینا ہے یا جواب دوں کہ نہ دوں؟ اگر بغیر نام کے کوئی شکایت کرتا ہے تو وہ تو ویسے بھی قابل توجہ نہیں ہوتی۔اُس کی جماعت میں کوئی پذیرائی نہیں ہوتی۔بہر حال یہ بات عہد یداروں سے اپنے عہدوں اور اپنی امانتوں کے پورا کرنے کا تقاضا کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کے سپر د جو یہ کام کیا ہے اُس کو صحیح طرح نبھا ئیں اور اسی طرح کچی گواہی کا تقاضا ہے کہ وہ اصلاح کی طرف توجہ دیا کرے، نہ کہ شکایت کنندہ کی تلاش کرنے کی طرف۔اگر شکایت کرنے والے کا نام میں نے بتانا ہوگا تو خود ہی بتا دوں گا اور اکثر بتا بھی دیا کرتا ہوں۔لیکن یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس صورت میں پھر بعض دفعہ شکایت کرنے والے پر زمین تنگ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ بھی تقوی سے دور بات ہے۔یہ پھر امانتوں اور عہدوں کی صحیح ادائیگی نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کی ہدایات پر ، احکامات پر صحیح عمل نہیں ہے۔پس اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑنا ہے تو ہر معاملے میں، ہر سطح پر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق چلانے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے الفضل انٹر نیشنل 31 اگست 2012ء) آپ انصار حقیقی رنگ میں اپنی حالتوں میں پاک تبدیلیاں پیدا کرتے ہوئے انصار اللہ بنیں اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے ہوئے مزید شکر گزار بنیں۔استغفار کرتے ہوئے اپنے ایمانوں کو مضبوط کریں مجلس انصار اللہ برطانیہ کے سالانہ اجتماع کے آخری روز مورخہ 7 اکتوبر 2012 ءکو طا ہر ہال بیت الفتوح لندن میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے انصار سے خطاب کرتے ہوئے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔" اس وقت میرے سامنے آپ جو انصار بیٹھے ہیں، آپ میں سے بہت سوں کے باپ دادا نے احمدیت قبول کی ہوگی اور کئی نسلوں سے آپ میں احمدیت چلی آرہی ہے۔بہت سے ایسے بھی ہوں گے جن کو تمھیں چالیس سال پہلے احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی۔اُن کی نسلیں بھی پیدائشی احمدی ہیں۔اسی طرح مسلسل یہ سلسلہ چل رہا ہے۔ہر سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے لوگ احمدیت میں شامل ہوتے ہیں۔اور اب تو لاکھوں کی تعداد میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہورہے ہیں۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کئے گئے وعدوں کا نتیجہ ہے کہ آپ کی جماعت نے ترقی کرنی ہے، بڑھنا ہے۔پس ہر احمدی جو چاہے کئی