سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 321
321 سبیل الرشاد جلد چہارم " ان دنوں میں ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے اور خاص طور پر ہر سطح کے ذیلی تنظیموں کے بھی اور مرکزی عہدیداروں کو بھی میں کہتا ہوں کہ اپنے جائزے لیں۔واقفین زندگی کو بھی اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے اور عمومی طور پر ہر احمدی کو تو ہے ہی کہ جب ہم نصیحت کرتے ہیں تو خود ہماری اپنی زندگیوں پر بھی اُن کے اثرات ظاہر ہوں۔اگر ایک عام مسلمان کا یہ فرض ہے، ایک عام مومن کا یہ فرض ہے اور وہ اس کام کے لئے پیدا کیا گیا ہے کہ نیکیوں کو پھیلائے اور برائیوں کو روکے تو جو لوگ اس کام کے لئے مقرر ہیں اُن کا تو سب سے زیادہ فرض بنتا ہے اور یہ فرض پورا بھی اُس وقت ہوگا جب ہماری اپنی نیتیں بھی صاف اور پاک ہوں گی۔جب خود ہر حکم پر عمل کرنے کی بھر پور کوشش ہوگی۔اگر عہد یداروں کے عبادتوں کے معیار بھی صرف رمضان میں بہتر ہوئے ہیں اور عام دنوں میں نہیں تو وہ بھی قول وفعل میں تضا در کھتے ہیں اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کو سخت نا پسند ہے۔میں اکثر مختلف میٹنگوں میں عہدیداران کو یہ توجہ دلاتا ہوں کہ اگر ہر سطح پر اور ہر تنظیم کے عہد یدار اپنی عبادتوں کے معیار کو ہی بہتر کر لیں اور مسجدوں کو آباد کرنا شروع کر دیں تو مسجدوں کی جو آبادی ہے وہ موجودہ حاضری سے دو تین گنا بڑھ سکتی ہے۔پس اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کے باقی احکامات ہیں۔اُن کی طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے تو اس سے بہت سے مسائل خود بخود حل ہو جاتے ہیں۔پھر اسی طرح جیسا کہ میں نے کہا دوسرے احکام ہیں ان پر عمل ضروری ہے۔قرآن کریم کا ایک پر حکم یہ بھی ہے کہ انصاف کو اس طرح قائم کرو کہ اپنے خلاف بھی گواہی دینی پڑے یا اپنے پیاروں والدین اور قریبیوں کے خلاف بھی گواہی دینی پڑے تو دو۔اگر جائزے لیں تو ہم میں عموماً وہ معیار نظر نہیں آتے۔پس ایک طرف تو ہم دعاؤں کی قبولیت کے نشان مانگتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے بندوں میں شامل ہونے کی خواہش رکھتے ہیں اور پھر گواہی کے وقت راستے تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کس طرح اپنے قریبیوں کو مجرم ہونے سے بچالیں۔بلکہ بعض دفعہ کوشش ہوتی ہے کہ ہم اور ہمارے قریبی بچ جائیں اور دوسرے کو کسی طرح ملزم بنا دیا جائے۔بعض دفعہ عہدیداروں کے متعلق یہ شکایات بھی آجاتی ہیں، مجھے لکھنے والے لکھتے ہیں کہ آپ نے توجہ دلائی ہے کہ جماعت میں فلاں فلاں عہدیدار کے متعلق یہ شکایت ہے یا بعض دفعہ جلسوں وغیرہ میں بعض کمزوریوں کی طرف نشاندہی کی جاتی ہے تو بجائے اس کے کہ وہ عہد یدار یا متعلقہ شعبہ جو ہے یا مجموعی طور پر جس کو بھی کہا جائے اپنی اصلاح کرے، اس بات کی تحقیق شروع کر دیتے ہیں کہ یہ شکایت کس نے کی ہے؟ حالانکہ اُن کا یہ کوئی مقصد نہیں ہے۔تمہیں تو چاہئے تھا کہ اس پر غور نہ کرو کہ شکایت کس نے کی ہے؟ تمہارا اس سے کوئی کام نہیں۔اگر یہ کمزوری ہے تو دور کرو اور اگر نہیں ہے تو پھر بھی استغفار کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ناکردہ گناہوں کی سزا سے بھی بچائے اور پھر جو صیح رپورٹ ہے وہ دے دی جائے کہ اصل حقیقت اس طرح