سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 318
سبیل الرشاد جلد چہارم 318 قائد تعلیم نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے نصاب میں قرآن کریم اور حدیث کا حصہ بھی ہے۔اس کے علاوہ مطالعہ کتب میں گزشتہ چھ ماہ میں لیکچر لاہور تھا اب آئندہ کے لئے لیکچر سیالکوٹ ہے۔جو انگریزی زبان سمجھتے ہیں ان کو نصاب انگریزی زبان میں دیا گیا ہے اور پھر اس نصاب کا با قاعدہ امتحان لیا جاتا ہے۔حضور انور کے دریافت فرمانے پر قائد تعلیم نے بتایا کہ انصاراللہ کی طرف سے 296 پیپر آئے تھے۔اس پر حضور انور نے فرمایا اپنی تمام مجالس کی عاملہ کو سب سے پہلے شامل کریں۔عاملہ شامل ہوگی تو پھر دوسرے بھی شامل ہوں گے۔مجلس، ریجن، ہر لیول (Level) پر عاملہ کے ممبران امتحان میں شامل ہوں، ہر مجلس میں شامل ہوں تو یہ تعداد آپ کی ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔آپ کی مجالس کی تعداد 72 ہے تو ایک ہزار پچاس سے زائد تو آپ کی عاملہ کے ممبران ہی ہو جائیں گے۔حضورا نور نے فرمایا آپ نے ایسے قائدین کو کیوں رکھا ہوا ہے جو خود بھی نمونہ نہیں ہیں۔اس طرح عاملہ کے ممبران بھی امتحان میں شامل نہیں ہوئے۔عاملہ کے سب ممبران اور عہد یداروں کو تو دوسروں کے لئے نمونہ بننا چاہئے۔قائد تربیت کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت دیتے ہوئے فرمایا کہ نمازوں، نوافل اور تہجد کی طرف انصار کو توجہ دلائیں۔اسی طرح انتظامی باتوں کی طرف بھی توجہ دلائی جائے۔بعض گھروں میں نظام کے بارہ میں باتیں ہوتی ہیں۔گھروں کی شکایتوں سے اس بات کا پتا چل جاتا ہے کہ نظام کے بارہ میں باتیں ہوتی ہیں کہ فلاں امیر اچھا تھا۔فلاں اچھا نہیں ہے، یا فلاں عہدیدا را ایسا ہے تو ان سب باتوں پر آپ کو زور دینا چاہئے۔حضور انور نے فرمایا میں جو خطبات دیتا ہوں ان میں حالات کے مطابق نصائح کرتا ہوں اور ت ہدایات دیتا ہوں تو یہ آپ کے لائحہ عمل کا حصہ ہونے چاہئیں۔حضور انور نے فرمایا گھروں کے ماحول سے باخبر رہیں۔بڑوں کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ توجہ دلاتے رہیں۔اللہ تعالیٰ نے مسلسل نصیحت کرتے چلے جانے کا حکم دیا ہے۔اس کا اثر ہوتا ہے۔حضور انور نے فرمایا آپ یہاں پیں ویج (Peace Village) میں اپنا زعیم اعلیٰ بنائیں، آپ لائحہ عمل نہیں پڑھتے اپنا دستور نہیں پڑھتے۔اپنا زعیم اعلیٰ بنا ئیں۔نماز فجر اور عشاء کی حاضری کے بارہ میں حضور انور نے دریافت فرمایا کہ بیت الذکر میں کتنے انصار آ جاتے ہیں۔قائد تربیت نے بتایا کہ دو تین صفیں ہوتی ہیں اس پر حضور انور نے فرمایا اس میں ویلج (Peace Village) میں مثال قائم نہیں کریں گے تو دوسری مجالس میں کس طرح ہوگا۔نمازوں وغیرہ پر بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔حضور انور نے فرمایا کہ یہاں جو برگر کھان وغیرہ ملتے ہیں ، میں نے سنا ہے کہ خلیفہ مسیح الرابع