سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 317 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 317

سبیل الرشاد جلد چہارم 317 ہدایت فرمائی کہ ایک تو اس تعداد کو بہتر کریں اور دوسرے کتاب شرائط بیعت بھی اپنے نصاب میں رکھیں اور کوشش کریں کہ 80 فیصد انصار امتحان میں شریک ہوں اور اس ٹارگٹ کو حاصل کریں۔قائد تربیت نے بتایا کہ ہم انصار کو نمازوں کی طرف توجہ دلا رہے ہیں۔اس پر حضور انور نے ہدایت دیتے ہوئے فرمایا کہ جو ایک دو نمازوں میں آرہے ہیں ان کو توجہ دلائیں کہ زیادہ میں آئیں۔اور جو با قاعدہ پانچ نمازیں ادا کر رہے ہیں ان کو توجہ دلائیں کہ تہجد ادا کریں۔نوافل ادا کریں اور اپنی توجہ خدا کی طرف رکھیں۔قائد تحریک جدید نے بتایا کہ تحریک جدید کے چندہ میں 9لاکھ ڈالر انصار اللہ کی طرف سے شامل تھا اور 54 فیصد انصار اللہ کی شمولیت تھی۔(الفضل انٹرنیشنل 7 ستمبر 2012ء) قائدین کو دوسروں کے لئے نمونہ ہونا چاہئے حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ نے 17 جولائی 2012ء کو بیت السلام کینیڈا میں اراکین مجلس انصار اللہ کینیڈا کے ساتھ میٹنگ میں شمولیت فرمائی اور تمام شعبوں کا جائزہ لیا۔قاعد عمومی نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ہماری مجالس کی تعداد 75 ہے جن میں سے 45 مجالس با قاعدہ اپنی رپورٹ بھجواتی ہیں۔حضور انور نے فرمایا باقی مجالس کو بھی Active کریں اور رپورٹ کے لئے یاد دہانی کروایا کریں۔حضور انور نے فرمایا حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے کہا تھا کہ جب ایک خادم 40 سال کی عمر میں ہوتا ہے تو بڑا Active ہوتا ہے اور جب 41 ویں سال میں داخل ہوتا ہے تو پتہ نہیں کیوں اس کے ذہن میں آجاتا ہے کہ اب کوئی کام نہیں کرنا۔اسی لئے حضرت خلیفتہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے انصار کی صف دوم بنائی تا کہ خدام سے انصار میں آنے والے خدام پہلے کی طرح Active رہیں۔صف دوم کے نائب صدر سے حضور انور نے پروگرام کے بارہ میں دریافت فرمایا کہ انصار کی سیر ،سائیکلنگ اور کھیلوں وغیرہ کے لئے کیا پروگرام بنایا ہے۔ان کی سیر کا مقابلہ کروادیا کریں۔نائب صدر دوم نے بتایا کہ 17 انصار مختلف جگہوں سے سائیکلوں پر آئے تھے۔حضور انور کے دریافت فرمانے پر قائد عمومی نے بتایا کہ انصار کی تجنید 3589 ہے اور ہمیں مجالس سے آن لائن سسٹم کے تحت رپورٹ موصول ہوتی ہیں۔حضور انور نے فرمایا ہر قائد کو اپنے اپنے شعبہ کی رپورٹ پر تبصرہ کرنا چاہئے۔علاوہ اس تبصرہ کے جو صدر صاحب کی طرف سے جاتا ہے۔یہ تبصرے جائیں گے تو مجالس کو کام میں بہتری پیدا کرنے کی طرف توجہ پیدا ہوگی۔