سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 294 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 294

294 سبیل الرشاد جلد چہارم رہے۔دوسرے دن پھر عرض کیا۔حضور خاموش رہے۔تیسرے دن پھر عرض کیا۔آپ نے فرمایا: میر صاحب یہ تو ایک روٹی کے لئے دو دفع دوزخ میں جاتا ہے، ایک دفعہ نکالنے کے لئے اور ایک دفعہ لگانے کے لئے ،اس سے بڑھ کر میں اس کو کیا سزا دوں گا ؟ اگر کوئی اور اس سے اچھا آپ کو ملتا ہے تو آپ لے آئیں۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو بھی ایمان اور ایقان میں بڑھائے اور یہ لوگ جن کی روایات ہیں یقیناً ان کی نسلیں بھی یہ واقعات سن رہی ہوں گی۔ہوسکتا ہے کچھ یہاں موجود بھی ہوں۔اللہ تعالیٰ ان کو اخلاص و وفا میں بڑھاتا چلا جائے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی دعاؤں کے وارث ہم بھی اور ہماری آئندہ آنے والی نسلیں بھی بنتی چلی جائیں۔اور جلد سے جلد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعے جو غلبہ اسلام کی مہم ہے اس کو بڑی شان سے کامیاب اور پورا ہوتے ہوئے دیکھیں۔“ " الفضل انٹرنیشنل 22 اکتوبر 2010ء) آپ کی ہر حرکت وسکون خلیفہ کے تابع ہونی چاہئے (ماہنامہ انصاراللہ ربوہ کی اشاعت کے پچاس سال پورے ہونے پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا خصوصی پیغام) پیارے انصار بھائیو! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ مجلس انصار اللہ پاکستان ماہنامہ انصار اللہ کی اشاعت کے پچاس سال پورا ہونے پر ایک خصوصی شمارہ شائع کر رہی ہے۔اللہ تعالیٰ اسے ہر لحاظ سے با برکت فرمائے اور قارئین پر اس کے نیک اثرات مرتب فرمائے۔اس موقع پر میں آپ کو چند باتوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔جماعت کی ذیلی تنظیموں کے نظام میں انصار اللہ کی تنظیم ایسی ہے جس کے ممبران اپنی اس عمر کو پہنچ جاتے ہیں جس میں انسان کو اپنی زندگی کے انجام کے آثار نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں اور بڑی تیزی سے اس انجام کی طرف قدم بڑھتے چلے جاتے ہیں۔اور اس انجام کا خوف اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ خالص ہو کر خدا تعالیٰ کے حضور جھکے اور اس کا قرب چاہے۔اس کا ایک ذریعہ نماز ہے جسے تمام عبادتوں میں ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔گزشتہ دنوں ہم رمضان کے مہینے سے گزرے ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ ان دنوں میں کمزوروں میں بھی ایک خاص تبدیلی پیدا ہوئی ہوگی اور نمازوں کی طرف ہر کسی نے توجہ دی ہوگی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو عبادت کا مغز قرار دیا ہے۔اس میں سب دُعائیں آجاتی ہیں۔اگر کلمہ طیبہ مسلمان