سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 286 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 286

286 سبیل الرشاد جلد چہارم کے ذریعہ بلایا۔میں نے اسے پوچھا کہ کیا مرزا صاحب نے وفات مسیح پر کوئی دلیل بھی دی ہے یا یوں ہی کہہ دیا ہے۔اس نے کہا نہیں آیات پیش کی ہیں۔میں نے حیران ہو کر کہا کہ ہم دن رات قرآن پڑھتے ہیں اور ہمیں معلوم نہیں کہ یہ کیا بات ہے۔ایک ہی آیت ہمیں بتا دو۔اس نے ساتویں پارے کی آیت فـــلـــمـــا تَوَفَّيْتَنِی بتادی۔میں نے کہا اب میری تسلی ہو گئی ہے۔اب کوئی مولوی میرا مقابلہ نہ کر سکے گا۔فجر کے وقت مولوی غلام حسین صاحب اور مولوی فیض دین صاحب اور دو تین آدمی میرے بھائی کے ہمراہ آئے۔میں مسجد کے دروازے میں کھڑا تھا کہ یہ جا پہنچے۔مولوی غلام حسین نے کہا کہ مسیح کے آپ کیوں دشمن ہو گئے ہیں۔میں نے کہا کہ مولوی صاحب! میں نے کیا دشمنی کی؟ وہ کہتے کہ آپ کا بھائی کہتا ہے کہ یہ مسیح کی موت کا قائل ہو گیا ہے۔میں نے کہا مولوی صاحب کیا کریں وہ تو خود اپنی موت کا اقرار کر رہا ہے اور آپ کی مثال مدعی ست گواہ چست کی ہے۔مولوی صاحب نے کہا کہاں لکھا ہے؟ میں نے کہا قرآن میں۔وہ کہتے ہیں مگر کون سا قرآن؟ جو مرزا صاحب نے بنا دیا ہے؟ میں نے کہا مولوی صاحب ذرا ہوش سے بولیں۔خدا پر حملہ کر رہے ہیں۔کیونکہ وہ تو فرماتا ہے کہ میرے قرآن کی کوئی مثل نہیں لاسکتا اور یہ کہہ رہے ہیں کہ قرآن مرزا صاحب نے بنا دیا ہے۔کہنے لگے کہاں لکھا ہے؟ میں نے ساتویں پارے کی آیت پڑھی۔کہتے ہیں مگر ہم تمہیں ایک ہی گر بتاتے ہیں کہ ان بے ایمانوں کے ساتھ بات نہ کی جائے یعنی احمدیوں کے ساتھ بات نہ کی جائے۔بلکہ نظر کے ساتھ نظر ملائی جائے تو بھی اس کا اثر ہو جاتا ہے۔میں نے کہا مولوی صاحب! سچائی کا اثر ویسے ہی ہوا کرتا ہے۔مولوی صاحب واپس ہو کر چلے گئے۔میرا بھائی جو مخالف تھا وہ نیروبی میں چلا گیا۔میں نے بیعت کر لی۔والد صاحب اور بیوی کو بھی سمجھا لیا۔گویا سب کو سمجھا لیا۔بھائی کو نیروبی میں جا کر سمجھ آئی۔وہ دس ماہ کے بعد واپس چلے آئے اور آتے ہی بیعت کر لی۔اب خدا کے فضل سے ہمارے محلے میں سوڈیرھ سو افراد احمدی ہیں۔بھائی صاحب کی واپسی پر والد صاحب میر حامد شاہ صاحب اور بھائی صاحب قادیان گئے وہ جب واپس آئے تو ہم چار آدمی تبلیغ کرتے کرتے پیدل چل پڑے اور دستی بیعت کی۔حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا کہ کئی سعید روحیں جو ہیں جو خوف کی وجہ سے چپ ہیں۔آج بھی اگر یہ پاکستان میں اس قانون کو ہٹاد میں اور احمدیوں کو آزادی سے تبلیغ کرنے دیں تو انشاء اللہ احمد بیت میں داخل ہو جائیں گی۔ایک ایمان افروز واقعہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میری بیوی، بڑا بھائی اس کی بیوی قادیان گئے۔ہم نے ایک مکان کرائے پر لیا ہوا تھا رات کو ہم اس مکان میں رہتے تھے۔دن کو ہماری مستورات اور بچے حضرت صاحب کے مکان میں رہتے تھے اور ہم مہمان خانہ میں۔میرے بھائی کی لڑکی کی آنکھیں بچپن سے ہی بیمار رہتی تھیں۔چونکہ وہ لڑکی