سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 282 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 282

282 سبیل الرشاد جلد چہارم روایات صحابہ میں سے میں نے لی ہیں جن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اپنے مقام پر بھی روشنی پڑتی ہے اور ان صحابہ کی پاک فطرت اور دین کی حقیقت اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مقام جاننے کی جستجو کا بھی پتہ چلتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے کس طرح ان کی رہنمائی فرمائی اس میں یہ باتیں بھی آئیں گی۔حضرت میاں محمد ابراہیم صاحب جو میاں محمد بخش صاحب گوجرانوالہ کے بیٹے تھے اور جو پیدائشی احمدی تھے، یہ کہتے ہیں کہ لاہور میں حضرت اقدس کا ایک لیکچر ہوا۔میں بمع والد صاحب کے گیا۔حضور ایک مکان کے برآمدے میں تقریر کر رہے تھے۔آگے ایک بڑا صحن تھا جو بالکل بھرا ہوا تھا۔باہر مخالفین از حد شور مچا رہے تھے اور اندر امینیٹیں اور روڑے پھینک رہے تھے۔لوگوں کو اندر آنے سے روکتے تھے۔میں اور والد صاحب تقریر سننے کے لئے بیٹھ گئے۔دوران تقریر میں میں نے دیکھا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی ران پر ہاتھ مارتے تھے اور بعض اوقات ٹھہر ٹھہر کر بولتے تھے۔میں نے اپنے والد صاحب کو کہا کہ حضرت اقدس اس طرح تقریر کر رہے ہیں جیسے پہلوان کشتی لڑتے ہیں۔یہ انبیاء کا کام نہیں۔( یہ اعتراض ان کے دل میں پیدا ہوا) تو والد صاحب نے اس وقت حافظ محمد لکھو کے والے کا یہ شعر پڑھا۔پنجابی کا شعر ہے بولن لگے اڑ کر بولے، پٹاں تے ہتھ مارے۔( یعنی جب بولتا ہے تو زبر دست بولتا ہے اور رانوں پر ہاتھ مار کر بولتا ہے۔تو ان کے والد صاحب کہنے لگے تم جس بات پر اعتراض کر رہے ہو یہ تو حضور کی صداقت کا نشان ہے۔اس پر میں خاموش ہو گیا اور گھر میں آکر احوال الآخرۃ میں سے وہ شعر دیکھا۔بعض دفعہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر اعتراض اور وسوسے دل میں پیدا ہو جاتے ہیں لیکن جن کو خدا تعالیٰ بچانا چاہتا ہے ان کو فوراً دور کرنے کے انتظام بھی فرما دیتا ہے۔اب ان کے والد صاحب کو یہ شعر یاد تھا فوراً انہوں نے بیان کر دیا۔سو یہ سوچنا کہ اس زمانہ کے لوگ کم علم تھے درست نہیں۔بڑی تحقیق کے بعد وہ لوگ بیعت میں شامل ہوتے تھے۔یا خوابوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ان کی تسلی کراتا تھا تو وہ لوگ بیعت میں شامل ہوتے تھے۔حضرت میاں میراں بخش ٹیلر ماسٹر کی بیعت کے لئے ازالہ اوہام باعث بنی پھر حضرت میاں میراں بخش صاحب ولد میاں شرف الدین صاحب ٹیلر ماسٹر تھے یہ روایت کرتے ہیں کہ میں جب دوکان سے اپنے گھر کی طرف جاتا تھا تو راستے میں اپنے بھائی غلام رسول سے ملا کرتا تھا۔ان کے ساتھ سلسلے کی باتیں ہوتی رہتی تھیں۔میں چونکہ مخالف تھا اس لئے ان کو جھوٹا کہا کرتا تھا لیکن جب گھر آکر سوچتا تو نفس کہتا کہ کورا ان پڑھ ہے۔(بالکل ان پڑھ ہے) مگر اس کی باتیں لا جواب ہیں۔ایک دفعہ میرے بھائی نے مجھے کچھ ٹریکٹ دیئے ، کچھ لٹریچر دیا، پمفلٹ دیئے جو میں نے پڑھے۔ان کا مجھ پر گہرا اثر ہوا اس پر میں نے خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا شروع کر دی۔ایک رات خواب میں دیکھا کہ میں اپنی چار پائی سے اٹھ کر