سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 271 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 271

سبیل الرشاد جلد چہارم 271 جماعتی ترقی اور تعلیم و تربیت اور اگلی نسل کو سنبھالنے میں عورت اور مرد خاص طور پر وہ جو چالیس سال سے اوپر کی عمر کے ہیں، بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اگر اپنی اس ذمہ داری کو ہماری عورتیں اور مرد حقیقی رنگ میں محسوس کر لیں اور جو ذمہ داریاں مرد اور عورت پر ہیں ان پر بھر پور طور پر توجہ دیں اور ان ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی کوشش کریں تو اگلی نسل کے جماعت سے جڑے رہنے اور ان کے اخلاص و وفا میں بڑھتے چلے جانے کی ضمانت مل سکتی ہے۔جہاں تک جماعتی ترقی کا سوال ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ خدا تعالیٰ کا فیصلہ ہے اور اس بات کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی اسی طرح وعدہ ہے جیسا کہ آپ کے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اللہ تعالیٰ نے تسلی دلائی تھی کہ آخری زمانے میں آپ کے غلامِ صادق کے مبعوث ہونے کے بعد اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا ایک اور دور شروع ہوگا ، اس میں اسلام کا آخری غلبہ ہوگا۔پس یہ ترقی تو جماعت کا مقدر ہے، انشاء اللہ۔راستے کی مشکلات بھی ہوتی ہیں جیسا کہ دوسری الہی جماعتوں کو ہوئیں۔امتحانوں کا سامنا کرنا پڑا۔جماعت احمدیہ کو بھی وقتاً فوقتاً مختلف جگہوں پر ان مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے۔آگیں بھڑکائی جاتی ہیں لیکن یہ آگیں اللہ تعالیٰ ٹھنڈی کر دیتا ہے۔اور نہ صرف ٹھنڈی کر دیتا ہے بلکہ مومن ان تکالیف اور مشکلات میں سے جب گزرتا ہے تو اس سونے کی مانند ہوتا ہے جو آگ میں پڑ کر کندن بن کر نکلتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کو خود بھی قرآنِ کریم میں بیان فرمایا ہے کہ میں آزمائشیں بھی کرتا ہوں، امتحان بھی لیتا ہوں۔فرماتا ہے کہ اَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَنْ يَقُوْلُوْا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُون (العنکبوت : 3 ) کیا اس زمانے کے لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ان کا یہ کہہ دینا کہ ہم ایمان لے آئے ہیں کافی ہوگا اور وہ چھوڑ دیئے جائیں گے اور ان کو آزمایا نہ جائے گا؟ پھر فرماتا ہے: وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِيْنَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الكاذبين (العنكبوت: 4) جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان کو بھی ہم نے آزمایا تھا اور اب بھی وہ ایسا ہی کرے گا۔سوا اللہ تعالیٰ ظاہر کر دے گا ان کو بھی جنہوں نے سچ بولا اور ان کو بھی جنہوں نے جھوٹ بولا۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ کھرے اور کھوٹے میں فرق کرنے کے لئے آزماتا ہے۔کبھی کسی قسم کے امتحان سے گزارتا ہے اور کبھی کسی اور قسم کے امتحان سے گزارتا ہے۔یہ امتحان ایمان میں جو مضبوط لوگ ہیں ان کے تعلق میں اضافہ کرتا ہے۔ان کا مضبوط ایمان بڑھا دیتا ہے اور جو کمزور اور معترض ہیں جو کہ کسی نہ کسی رنگ میں اعتراض میں مصروف رہتے ہیں، وہ لوگ ہر جماعت میں کچھ نہ کچھ ہوتے ہیں۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر اعتراض ہوتے ہیں۔چھوٹے عہدے داروں پر اعتراض ہوتے ہیں۔بڑے عہدے داروں پر اعتراض ہوتے ہیں اور پھر یہ اعتراض جو شروع ہوتے ہیں تو بڑھتے بڑھتے ان لوگوں کے ایمان کے لئے بھی خطرہ اور ابتلا بن جاتے ہیں اور اگر اللہ کا خاص فضل نہ ہو تو پھر بعضوں پر ایک صورت ایسی بھی آ جاتی ہے جو