سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 10 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 10

10 سبیل الرشاد جلد چہارم تمام آرزوئیں اور تمام ارادے اور تمام خواہشیں خدا میں ہو جائیں۔اور نفس امارہ کی تمام عمارتیں منہدم کر کے خاک میں ملا دی جائیں۔اور ایک ایسا پاک محل تقدس اور تطہر کا دل میں تیار کیا جاوے جس میں حضرت عزت نازل ہو سکیں اور اس کی روح اس میں آباد ہو سکے۔اس قدر تکمیل کے بعد کہا جائے گا کہ وہ امانتیں جو منعم حقیقی نے انسان کو دی تھیں وہ واپس کی گئیں تب ایسے شخص کو یہ آیت صادق آئے گی وَالَّذِيْنَ هُمْ لِامْنَتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُوْنَ"۔۔۔۔پس یا درکھیں کہ امانت کی بہت بڑی اہمیت ہے۔اور جتنے زیادہ عہد یداران جماعت اور۔۔۔۔۔میں جا کر امانت کے مطلب کو سمجھنے کی کوشش کریں گے اتنے ہی زیادہ تقویٰ کے اعلیٰ معیار قائم ہوتے چلے جائیں گے۔حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کے اعلیٰ معیار قائم ہوں گے۔نظام جماعت مضبوط ہوگا ، نظام خلافت مضبوط ہوگا۔آپ کی نظام سے وابستگی قائم رہے گی۔خلافت کے نظام کو مضبوط کرنے کے لئے خلیفہ وقت کی تو ہمیشہ یہی دعا ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے متقیوں کا امام بنائے۔تو پھر ان دعاؤں کے مورد، ان کے حامل تو وہی لوگ ہوں گے جو اپنی امانتوں کا پاس کرنے والے، اپنے عہدوں کا پاس کرنے والے، اپنے خدا سے وفا کرنے والے ہوتے ہیں اور تقویٰ پر قائم رہنے والے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ جماعت کے ہر فرد کو یہ معیار قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے" خطبات مسر در جلد 1 صفحہ 232-236) نظام جماعت اور عہدیداران کی اطاعت کریں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ 22 اگست 2003ء میں فرمایا۔ہمیشہ یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ جو بھی صورت حال ہو ہمیشہ صبر کرنا ہے۔یہ بھی ذہن میں رہے کہ صبر ہمیشہ حق تلفی کے احساس پر ہی انسان کو ہوتا ہے۔اب یہاں احساس کا لفظ میں نے اس لئے استعمال کیا ہے کہ اکثر جس کے خلاف فیصلہ ہو اس کو یہ خیال ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ غلط ہوا ہے اور میر احق بنتا تھا۔تو یہ خیال دل سے نکال دیں۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ نیچے سے لے کر اوپر تک سارا نظام جو ہے غلط فیصلے کرتا چلا جائے اور یہ بدظنی پھر خلیفہ وقت تک پہنچ جاتی ہے۔اگر ہر احمدی کے سامنے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان رہے کہ بتايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيْعُوا اللَّهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَأَوْلِى الأمْرِ مِنْكُمْ ، فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا ( النساء : (60) اس کا ترجمہ ہے کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے حکام کی بھی۔اور اگر تم کسی معاملہ میں (اولو الامر سے اختلاف کرو تو ایسے معاملے