سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 265 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 265

265 سبیل الرشاد جلد چہارم ذمہ داری ہے کہ جہاں وہ اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے اور تقویٰ پر چلنے کی طرف توجہ دیں وہاں اپنے بچوں کی بھی ایسے رنگ میں تربیت کریں کہ وہ بڑے ہو کر اسلامی تعلیم کے صحیح نمونے بنیں بلکہ بچپن سے ہی ان سے اسلامی تعلیمات کا اظہار ہوتا ہو۔ایک احمدی بچے اور ایک غیر مسلم یا غیر احمدی بچے میں فرق ظاہر ہوتا ہو۔اور پھر یہ بچے ،نئی نسل احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا پیغام پہنچانے میں بھر پور کوشش کرنے والے بنیں تا کہ اس ملک میں بھی احمدیت کا پیغام ہمیشہ پھیلتا چلا جائے" خطبات مسرور جلد 8 صفحہ 187 ) ذیلی تنظیمیں نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو جماعتی نظام سے اس طرح جوڑیں کہ وہ دین کو دنیا پر مقدم رکھیں ذیلی تنظیمیں نو جوان نسل کو بُرائیوں سے بچانے کے لئے پروگرام بنانے کا لائحہ عمل بنا ئیں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 23 اپریل 2010ء کو خطبہ جمعہ میں نوجوان نسل کو سنگین قسم کی برائیوں سے بچانے کے لئے ایک لائحہ عمل تشکیل دینے کی طرف یوں توجہ دلائی۔" حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک احمدی سے توقع رکھی ہے کہ ہر قسم کے جھوٹ ، زنا، بد نظری، لڑائی جھگڑا، ظلم ، خیانت، فساد، بغاوت سے ہر صورت میں بچنا ہے۔ہر وقت اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ میں ان برائیوں سے بیچ رہا ہوں ؟ بعض لوگ ان باتوں کو چھوٹی اور معمولی چیز سمجھتے ہیں۔اپنے کاروبار میں، اپنے معاملات میں جھوٹ بول جاتے ہیں۔ان کے نزدیک جھوٹ بھی معمولی چیز ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو بھی شرک کے برابر ٹھہرایا ہے۔زنا ہے، بدنظری وغیرہ ہے۔یہ برائیاں آج کل میڈیا کی وجہ سے عام ہوگئی ہیں۔گھروں میں ٹیلی ویژن کے ذریعہ یا انٹرنیٹ کے ذریعہ سے ایسی ایسی بیہودہ اور لچر فلمیں اور پروگرام وغیرہ دکھائے جاتے ہیں جو انسان کو برائیوں میں دھکیل دیتے ہیں۔خاص طور پر نوجوان لڑکے لڑکیاں بعض احمدی گھرانوں میں بھی اس برائی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔پہلے تو روشن خیالی کے نام پر ان فلموں کو دیکھا جاتا ہے۔پھر بعض بد قسمت گھر عملاً ان برائیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔تو یہ جو زنا ہے یہ دماغ کا اور آنکھ کا زنا بھی ہوتا ہے اور پھر یہی زنا بڑھتے بڑھتے حقیقی برائیوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔ماں باپ شروع میں احتیاط نہیں کرتے اور جب پانی سر سے اونچا ہو جاتا ہے تو پھر افسوس کرتے اور روتے ہیں کہ ہماری نسل بگڑ گئی ، ہماری اولادیں برباد ہوگئی ہیں۔اس لئے چاہئے کہ پہلے نظر رکھیں۔بیہودہ پروگراموں کے دوران بچوں کو ٹی وی کے سامنے نہ بیٹھنے دیں اور انٹرنیٹ پر بھی نظر رکھیں۔بعض ماں باپ زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں۔جماعتی