سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 264
264 سبیل الرشاد جلد چہارم ہمارا کام یہ ہے کہ اپنے ملک کے حالات کے مطابق یہاں تبلیغ کے نئے نئے راستے تلاش کریں۔مربیان کے ہفتہ میں ایک دن یا سال میں چند دنوں کے تبلیغی پروگرام بنانے سے پیغام نہیں پہنچ سکتا۔وسیع اور باہمت منصو بہ بندی کی ضروری ہے۔ٹارگٹ مقرر کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے ایک سال میں آبادی کے کم از کم ایک یا دو فیصد تک احمدیت کا تعارف پہنچانا ہے۔جن ملکوں میں اس نہج پر کوشش ہو رہی ہے وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے کامیاب نتائج نکل رہے ہیں۔اور اس کے لئے جیسا کہ میں نے کہا ہے مربیان بھی اور جماعتی نظام بھی اور تمام ذیلی تنظیمیں بھی یہ سارے نظام ساتھ ساتھ چلیں۔اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے ذمہ بھی یہی کام لگایا تھا۔یہی کام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ بھی لگایا گیا۔اور یہی کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذمہ لگایا گیا کہ تمہارا کام پیغام پہنچانا ہے" (خطبات مسر و ر جلد 8 صفحہ 174-175 ) ذیلی تنظیموں کا ہر عہدیدار، فرد جماعت کی حیثیت سے جماعتی نظام کا پابند ہے حضور انور ایدہ اللہ تعالٰی نے 16 اپریل 2010 ء کے خطبہ جمعہ کے اخیر میں ذیلی تنظیموں کے عہد یداران سے مخاطب ہوکر فرمایا۔" تقوی کا یہ بھی تقاضا ہے کہ ہر فر د جماعت اپنے عہدیدار کے ساتھ مکمل تعاون اور اطاعت کا جذبہ رکھنے والا ہو۔اور ہر عہدیدار اپنے سے بالا عہدے دار کا احترام ، تعاون اور اطاعت کے معیاروں کو حاصل کرنے والا ہو۔ذیلی تنظیمیں اپنے دائرے میں بے شک آزاد ہیں اور خلیفہ وقت کے ماتحت ہیں۔لیکن جماعتی نظام کے تحت ذیلی تنظیموں کا ہر عہدیدار بھی فرد جماعت کی حیثیت سے جماعتی نظام کا پابند ہے اور اس کے لئے اطاعت لازمی ہے۔پس اس طرف بھی خاص توجہ دیں۔اگر جماعتی ترقی دیکھنی ہے، اگر اپنی تبلیغی کوششوں کے پھل دیکھنے ہیں؟ اگر اپنے تربیتی معیاروں کو بلند کرنا ہے؟ تو ہر جگہ یکجان ہو کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔پس تقویٰ پر قدم مارتے ہوئے زندگی بسر کریں۔اختلافات کی صورت میں بھی دعا سے کام لیں۔زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ اگر کسی سے بہت بڑا اختلاف کوئی ایسا ہوا ہے جس سے کسی کی نظر میں جماعت کا نظام متاثر ہو سکتا ہے یا جماعت کے لئے کسی طرح بھی وہ نقصان کا باعث ہے تو میرے علم میں وہ بات لے آئیں لیکن اطاعت میں فرق نہیں آنا چاہئے۔ہر لیول (Level) پر اطاعت ہوگی تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کے انعاموں پر شکر گزاری کا ذریعہ بنے گی۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو اور خاص طور پر عہدیداران کو اپنے اعلیٰ نمونے قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے تا کہ نئے آنے والوں کے لئے وہ مثال ہوں نہ کہ کسی قسم کا ٹھوکر کا باعث بنیں۔مردوں اور عورتوں کی یہ مشترکہ