سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 9
9 سبیل الرشاد جلد چہارم شکایات پیدا ہوتی ہیں تو بعض اوقات یہ صرف غلط فہمی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔یا بعض دفعہ کسی نے اپنے ذاتی بغض کی وجہ سے جو کسی عہدیدار کے ساتھ ہے اپنے ماحول میں بھی لوگ اس عہد یدار کے خلاف باتیں کر کے لوگوں کو اس کے خلاف کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ایسی صورت میں بھی آپ کو چاہئے کہ امانتیں ان کے صحیح حقداروں تک پہنچا ئیں۔یعنی باتیں بالا افسران تک، عہد یدارن تک، نظام تک پہنچائیں۔لیکن تب بھی یہ کوئی حق نہیں پہنچتا بہر حال کہ ادھر ادھر بیٹھ کر باتیں کی جائیں۔بلکہ جس کے خلاف بات ہورہی ہے مناسب تو یہی ہے کہ اگر آپ کی اس عہدیدار تک پہنچ ہے تو اس تک بات پہنچائی جائے کہ تمہارے خلاف یہ باتیں سننے میں آرہی ہیں۔اگر صحیح ہیں تو اصلاح کر لو اور اگر غلط ہے تو جو بھی صفائی کا طریقہ اختیار کرنا چاہتے ہو کرو۔پھر کسی کی پیٹھ پیچھے باتیں کرنے والوں کو ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ وہ باتیں صحیح ہیں یا غلط یہ غیبت یا جھوٹ کے زمرے میں آتی ہیں۔اور غیبت کرنے والوں کو اس حدیث کو یا درکھنا چاہئے کہ اگلے جہان میں ان کے ناخن تانبے کے ہو جائیں گے جس سے وہ اپنے چہرے اور سینے کا گوشت نوچ رہے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے محفوظ رکھے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔۔۔۔" مومن وہ ہیں جو اپنی امانتوں اور عہدوں کی رعایت رکھتے ہیں یعنی ادائے امانت اور ایفائے عہد کے بارہ میں کوئی دقیقہ تقویٰ اور احتیاط کا باقی نہیں چھوڑتے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کا نفس اور اس کے تمام قومی اور آنکھ کی بینائی اور کانوں کی شنوائی اور زبان کی گویائی اور ہاتھوں اور پیروں کی قوت یہ سب خدا تعالیٰ کی امانتیں ہیں جو اس نے ہمیں دی ہیں اور جس وقت چاہے اپنی امانت کو واپس لے سکتا ہے۔پس ان تمام امانتوں کی رعایت رکھنا یہ ہے کہ باریک در بار یک تقوی کی پابندی سے خدا تعالیٰ کی خدمت میں نفس اور اس کے تمام قومی اور جسم اور اس کے تمام قومی اور جوارح سے لگایا جائے اس طرح پر کہ گویا یہ تمام چیزیں اس کی نہیں بلکہ خدا کی ہو جائیں۔اور اُس کی مرضی اس کی نہیں بلکہ خدا کی مرضی کے موافق ان تمام قومی اور اعضاء کا حرکت اور سکون ہو۔اور اس کا ارادہ کچھ بھی نہ رہے بلکہ خدا کا ارادہ اس میں کام کرے اور خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں اس کا نفس ایسا ہو جیسا کہ مردہ زندہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔اور یہ خود رائی سے بے دخل ہو ( یعنی اپنا وجود ہی نہ ہو ) اور خدا تعالیٰ کا پورا تصرف اس کے وجود پر ہو جائے۔یہاں تک کہ اُسی سے دیکھے اور اُسی سے سنے اور اُسی سے بولے اور اسی سے حرکت یا سکون کرے۔اور نفس کی دقیق در دقیق آلائشیں جو کسی خوردبین سے بھی نظر نہیں آسکتیں دور ہو کر فقط روح رہ جائے۔غرض مہیمنت خدا کی اس کا احاطہ کرلے۔( یعنی انسان خدا تعالیٰ کے مکمل طور پر قبضہ میں ہو )۔اور اپنے وجود سے اس کو کھوہ دے اور اس کی حکومت اپنے وجود پر کچھ نہ رہے اور سب حکومت خدا کی ہو جائے۔اور انسانی جوش سب مفقود ہو جائیں۔اور