سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 8 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 8

8 سبیل الرشاد جلد چہارم جائے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔ایسے عہد یدار جو پورے تقویٰ کے ساتھ خدمت سر انجام دیتے ہیں اور دے رہے ہیں ان کے لئے ایک حدیث میں جو میں پڑھتا ہوں، ایک خوشخبری ہے۔حضرت ابوموسی بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ مسلمان جو مسلمانوں کے اموال کا نگران مقرر ہوا اگر وہ امین اور دیانتدار ہے اور جو اسے حکم دیا جاتا ہے اسے صحیح حیح نافذ کرتا ہے اور جسے کچھ دینے کا حکم دیا جاتا ہے اسے پوری بشاشت اور خوش دلی کے ساتھ اس کا حق سمجھتے ہوئے دیتا ہے تو ایسا شخص بھی عملاً صدقہ دینے والے کی طرح صدقہ دینے والا شمار ہوگا۔(مسلم کتاب الزكوة باب اجر الخازن الامين والمرأة۔۔۔۔اپنے سے بالا عہدیدار کے متعلق بات کرنا فتنہ پیدا کرنے کے مترادف ہے۔۔۔۔۔اس میں بعض اوقات اچھے بھلے سلجھے ہوئے کارکن بھی شامل ہو جاتے ہیں اور ایسی باتیں کر جاتے ہیں جو وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں اور اس طرح غیر محسوس طور پر ایک کارکن دوسرے کارکن کے متعلق بات کر کے یا ایک عہدیدار دوسرے بالا عہد یدار کے متعلق بات کر کے یا اپنے سے کم عہدیدار کے متعلق بات کر کے، لوگوں کے لئے فتنے کا موجب بن رہا ہوتا ہے۔کمزور طبیعت والے ایسی باتوں کا خواہ وہ چھوٹی باتیں ہی ہوں، بُرا اثر لیتے ہیں۔اور ایسے کارکنوں کو بھی جو اپنے ساتھی عہدیداران کے متعلق باتیں کرنے کی عادت پڑ جائے تو منافق بھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور نظام بھی متاثر ہوتا ہے۔اس لئے تمام کارکنان اور عہدیداران کو جو ایسی باتیں خواہ مذاق کے رنگ میں ہوں کرتے ہیں ان کو اپنے عہدوں اور اپنے مقام کی وجہ سے ایسی باتیں کرنے سے پر ہیز کرنا چاہئے۔اور ایسی مجلسوں میں بیٹھنے والوں کے لئے یہاں اجازت ہے۔اب ویسے تو مجلس کی باتیں امانت ہیں با ہر نہیں نکلی چاہئیں لیکن اگر نظام کے خلاف باتیں ہورہی ہوں تو یہاں اجازت ہے کہ چاہے وہ اگر نظام کے متعلق ہے یا نظام کے کسی عہد یدار کے متعلق ہیں اور اس سے یہ تاثر پیدا ہورہا ہے کہ اس میں کئی اعتراض کے پہلو ابھر سکتے ہیں ، نکل سکتے ہیں تو اس کو افسران بالا تک پہنچانا چاہئے۔اور ایک حدیث میں اس کی اس طرح اجازت ہے کہ حضرت جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجالس کی گفتگو امانت ہے سوائے تین مجالس کے۔ایسی مجلس جہاں ناحق خون بہانے والوں کے باہمی مشورہ کی مجلس ہو۔پھر وہ مجلس جس میں بدکاری کا منصوبہ بنے۔اور پھر وہ مجلس جس میں کسی کا مال ناحق دبانے کا منصوبہ بنایا جائے۔تو جہاں ایسی سازشیں ہو رہی ہوں جس سے کسی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو، ایسی باتیں سن کر متعلقہ لوگوں تک یا افسران تک پہنچانا یہ امانت ہے۔ان کو نہ پہنچانا خیانت ہو جائے گی۔تو نظام کے متعلق جو باتیں ہیں وہ بھی اسی زمرہ میں آتی ہیں کہ اگر کوئی نظام کے خلاف بات کر رہا ہو اور بالا افسران تک نہ پہنچا ئیں۔پھر بعض دفعہ عہدیداران کے خلاف