سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 255
سبیل الرشاد جلد چہارم 255 ہیں اور پروگرام بنا کر ان پر عمل کیا ہے۔قائد تعلیم نے اپنی رپورٹ دیتے ہوئے بتایا کہ سہ ماہی نصاب دیا جاتا ہے۔ایک حدیث بھی دی جاتی ہے۔حضور انور نے فرمایا کہ ایک حدیث تین ماہ کے لئے کافی نہیں۔ارذل العمر والے کے لئے تو ایک حدیث تین ماہ میں ہو سکتی ہے۔جو صف دوم کے ہیں ان کے لئے زیادہ نصاب ہونا چاہئے۔حضرت اقدس مسیح موعود کی کوئی چھوٹی کتاب مقرر کر لیں اور وہ ان کو دیں اور پھر اس کا امتحان لیں۔صدر مجلس نے بتایا کہ مجالس کو مقالہ ہستی باری تعالیٰ کے عنوان پر دیا ہوا ہے۔نیز مختلف عناوین پر صاحب علم لوگوں سے تقاریر تیار کروائی جاتی ہیں۔حضور انور نے فرمایا کہ تقریریں کروا کر سوال و جواب کروائیں پھر فائدہ ہوگا۔حضور انور نے فرمایا جو انصار فارغ ہیں ان کو دعوت الی اللہ کے لئے استعمال کریں اور ان سے کام لیں۔جو جماعتیں آپ کی Active ہیں وہ آپ کو بے تحاشا لوگوں کی فہرستیں مہیا کر سکتی ہیں۔دعوت الی اللہ میں سب کو Active کرنا پڑے گا تب جا کر کام ہو گا۔حضور انور کی خدمت میں رپورٹ پیش کی گئی کہ 24 دعوت الی اللہ کی مجالس کروائی گئی ہیں جن میں 684 افراد شامل ہوئے۔حضور انور نے دریافت فرمایا کہ ان مجالس سے جو استفادہ کیا اس سے آگے کیا فائدہ اٹھایا۔ان لوگوں سے بعد میں رابطہ رکھنا چاہئے - Follow کا سلسلہ ہونا چاہئے۔قائد تربیت نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ وہ انصار جو مسجد کے نزدیک نہیں رہتے اور اسی طرح وہ انصار جو رابطہ نہیں رکھتے ان کا جائزہ لیا گیا اور کوشش کی گئی۔حضور انور نے دریافت فرمایا آپ کے اس جائزے اور کوشش کا کیا نتیجہ نکلا۔کیا آپ اس سے مطمئن ہیں؟ قائد تربیت نے بتایا کہ آہستہ آہستہ نتیجہ نکل رہا ہے۔حضور انور نے فرمایا کہ تین سال سے آپ کوشش کر رہے ہیں۔36 مہینے گزر گئے ہیں۔تین سال پہلے کیا حالت تھی۔اب کیا حالت ہے؟ قائد صاحب نے بتایا کہ میرے پاس اب ذمہ داری آئی ہے۔حضور انور نے فرمایا اب ذمہ داری کا آنا کوئی بہانہ نہیں ہے۔اصل میں یہ ہے کہ شعبہ تربیت نے کیا کام کیا ہے۔جو بھی سابقہ قائد ہے اس کا فرض ہے کہ اپنے شعبہ کی رپورٹ مکمل کر کے جائے تا کہ آئندہ آنے والا اس کام کو آگے بڑھائے۔ہر قائد یہ سوچے کہ میں ایک سال کے لئے قائد ہوں اس نہج پر کام کروں۔اس نہج پر چلاؤں کہ آئندہ آنے والا قائد اس سے فائدہ اٹھائے اور آگے کام بڑھا سکے تب ہی فائدہ ہے ورنہ نیا آنے والا پھر صفر سے کام شروع کرتا ہے۔قائد ایثار نے اپنے شعبہ کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ نئے سال کے شروع میں جو وقار عمل ہوتا ہے اس میں ہم شامل ہوتے ہیں۔پھر بوڑھے لوگوں کے ہوسٹلز میں بھی وزٹ کیا جاتا ہے اور اسی طرح