سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 256 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 256

256 سبیل الرشاد جلد چہارم مختلف شہروں میں پودے لگائے جاتے ہیں۔ہم نے سات شہروں میں شجر کاری کی ہے۔حضور انور نے فرمایا یہاں ایک پودا لگائیں تو بہت سراہا جاتا ہے۔اس لئے اگر پچاس، سولگا ئیں گے تو شور پڑ جائے گا۔حضور انور نے فرمایا آپ ان کو کہیں کہ ہمیں کوئی گلی دو ہم آپ کو پچاس، سو پودے لگا دیں گے۔جنگل میں خاص ایر یا ہوتا ہے وہ لیا جاسکتا ہے یا پارک وغیرہ کا کوئی حصہ لے لیں کہ ہم یہاں پودے لگائیں گے اور اس کی دیکھ بھال کریں گے۔اس سے آپ کا بہت زیادہ تعارف بڑھ سکتا ہے اور آپ کو ہر طرف سراہا جائے گا اور حکام سے رابطے اور تعلق بڑھیں گے۔حضور انور کو بتایا گیا کہ دوصد یورو کا ایک پودا ملتا ہے۔حضور انور نے فرمایا پودے چھوٹے بڑے ہوتے ہیں اور مختلف اقسام کے ہوتے ہیں اس لئے مختلف قیمتوں میں ملتے ہیں اور بعض بہت ستے بھی مل جاتے ہیں۔حضورانور نے فرمایا آپ اپنے گھروں کے سامنے بھی پودے لگا سکتے ہیں۔حضورا نور نے صدر مجلس سے فرمایا کہ آپ کے اجتماع پر چالیس ہزار یورو خرچ ہوتا ہے۔رقم بچ جاتی ہے اس میں سے دس ہزار شعبہ ایثار کو دے دیں پودے لگانے کے لئے۔بعض جگہ خاص پودے لگتے ہیں اور بعض جگہ اپنی مرضی سے لگاتے ہیں۔اس میں ستے بھی ہیں اور مہنگے بھی ہیں۔گھروں کے سامنے لگ سکتے ہیں۔مسجد کے سامنے لگ سکتے ہیں۔Greenery ہو جائے گی۔حضور انور نے فرمایا ہر جگہ مجلس ایسے کام کر رہی ہو جہاں پروجیکشن مل رہی ہو۔ہمسایہ کی طرف سے بھی اور پھر علاقہ میں بھی تو پھر حق میں آواز بلند ہوتی ہے۔جس طرح کہ آج جامعہ (جرمنی) کے سنگ بنیاد کے موقع پر ہوا۔میئر نے بھی اور دوسرے مہمان نے بھی کھلے دل کے ساتھ آپ کے حق میں اظہار کیا۔حضور انور نے فرمایا اس لئے پوری ریسرچ کریں اور جائزہ لیں کہ ہم کس طرح کے پودے لگا سکتے ہیں۔گلوبل وارمنگ (Global Warming) کا آجکل بڑا شور ہے۔اگر آپ اس طرح کے کام کر رہے ہوں گے تو کوئی پتہ نہیں کہ کسی وقت حکومت آپ کی مدد کرنی شروع کر دے۔حضور انور نے فرمایا نئے راستے نکالنا اصل کام ہے۔صرف جوانوں کے جوان کا خطاب لے لینا اصل کام نہیں ہے۔۔قائد دعوت الی اللہ سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دریافت فرمایا کہ آپ نے دعوت الی اللہ کا ٹارگٹ کیا رکھا ہے۔جس پر موصوف نے بتایا کہ مشرقی جرمنی کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ایک حصہ خدام کو اور ایک حصہ انصار کو دیا ہے۔حضور انور نے دریافت فرمایا وہاں کے لوگوں کو دین حق سے دلچسپی ہے کہ نہیں، انہوں نے چالیس سال بھوکے رہ کر گزارے ہیں۔اب ان کو کھانے پینے ، دولت اور عیاشی سے غرض ہے۔حضور انور نے فرمایا شہروں سے باہر نکلیں اور چھوٹی جگہوں پر رابطے کریں، کونسل سے رابطے کریں، گھروں سے رابطے کریں۔سیمینار منعقد کریں ، انٹر فیتھ کا نفرنس کا انعقاد کریں اور ایسے عناوین لئے جائیں کہ لوگوں میں دلچسپی پیدا ہو۔مثلاً خدا تعالیٰ کا وجود، دین حق امن و سلامتی کا مذہب ہے۔تیسری جنگ عظیم سے کس