سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 251 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 251

251 سبیل الرشاد جلد چہارم الْفَسِقُونَ ) ( النور : 56) کہ اللہ تعالیٰ نے تم میں سے جو ایمان لانے والے ہیں اور نیک عمل کرنے والے ہیں اُن سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اُن کو زمین میں خلیفہ بنا دے گا یعنی ان میں خلافت کا نظام قائم ہوگا اور مومنین کی جماعت خلیفہ وقت کی طرف دیکھتے ہوئے اس کی باتوں پر عمل کرنے والی ہو جائے گی۔گویا کہ وہ ایک جان بن جائیں گے۔جماعت کا اور خلیفہ کا ایک وجود بن جائے گا۔افراد جماعت اس کے اعضاء ہو جائیں گے اور خلیفہ وقت اس کے دل و دماغ کا کردار ادا کرے گا اور جب یہ سوچ ہر ایک میں پیدا ہو جائے گی تو سوال ہی نہیں کہ کوئی فرد جماعت اپنے فیصلوں اور اپنے علمی نکتوں اور اپنے عملوں پر اصرار کرے۔دنیا نے کبھی یہ واقعہ ہوتے نہیں دیکھا کہ دماغ ہاتھ کو ایک حکم دے اور ہاتھ اس حکم کو رد کرتے ہوئے اپنے طور پر کوئی کام سرانجام دے۔پس جو ایمان لانے والے ہیں، نیک اعمال کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ کے احکام ماننے والے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق اس جسم کا عضو بن جاتے ہیں جو دماغ کے تابع ہوتے ہیں۔اس جماعت کا حصہ بن جاتے ہیں جو آخری زمانہ میں حضرت مسیح موعود کے ذریعہ سے قائم ہو کر پہلوں سے ملنے والی جماعت ہے۔پھر اس کے عملی نمونے دکھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے اس انعام کے حقدار ہو جاتے ہیں جو قیامت تک جاری رہنے والا انعام ہے۔انصاراللہ کو ہمیشہ یہ یادرکھنا چاہئے کہ وہ اس انعام سے حقیقی رنگ میں تبھی فیض اٹھائیں گے جب وہ ہر وقت اپنے ذہن میں یہ رکھیں گے کہ بحیثیت انصار اللہ ہم اس جسم کا اہم عضو ہیں اور جسم کی بقا کے لئے ضروری ہے کہ اس کا ہر عضو سلامت ہو اور ہم نے اپنا نام اللہ تعالیٰ کا مددگار رکھ کر اپنے آپ کو جماعت کا وہ اہم حصہ بنا لیا ہے جس کے عملی نمونے اور پاک تبدیلیاں دوسری تنظیموں اور افراد جماعت سے بہت بڑھ کر ہونی چاہئیں۔ہماری مالی قربانیوں کے معیار بھی دوسروں سے بلند ہوں۔ہماری تبلیغی سرگرمیوں کے معیار بھی دوسروں سے بلند ہوں۔ہماری عبادتوں کے معیار بھی دوسروں سے بلند ہوں۔جب یہ باتیں ہوں گی تو ہم حقیقی انصار اللہ کہلائیں گے۔اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود سے وعدہ ہے کہ آپ کی جماعت کو غلبہ عطا فرمائے گا اور ترقیات سے نوازے گا۔تبلیغی ترقیات سے نوازے گا۔بیشک راہ میں روکیں آئیں گی مگر جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے ترقی کرتی چلی جائے گی۔پس جب اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے اور خلافت کا بھی دائمی وعدہ ہے تو پھر اللہ تعالیٰ خلافت کو اور حضرت مسیح موعود کو دین کے انصار بھی مہیا فرما تا چلا جائے گا۔گویا انصار اللہ بھی ایک ہمیشہ قائم رہنے والا ادارہ ہے کیونکہ وہ افراد ہی ہیں جن کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ دین کی نصرت کے لئے سامان فرماتا ہے۔اگر کوئی فرد دین کی نصرت کے لئے اپنے آپ کو تیار نہیں کرے گا تو اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق اور افراد تیار کر دے گا ، اور قو میں تیار کر دے گا اور انصار اللہ کا جو یہ سلسلہ ہے یہ جاری رہے گا اور چلتا چلا جائے گا