سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 7
سبیل الرشاد جلد چہارم 7 مشورہ ایک امانت ہے پھر مشورے ہیں اگر کوئی کسی عہدیدار سے یا کسی بھی شخص سے مشورہ کرتا ہے تو یہ بالکل ذاتی چیز ہے، ایک امانت ہے۔تمہارے پاس ایک شخص مشورہ کے لئے آیا تم نے اپنی عقل کے مطابق اسے مشورہ دیا تو تم نے امانت لوٹانے کا حق ادا کر دیا۔اب تمہارا کوئی حق نہیں بنتا کہ اس مشورہ لینے والے کی بات آگے کسی اور سے کرو۔اور اگر کرو گے تو یہ خیانت کے زمرے میں آجائے گی۔عہدیداران کو بھی ، کارکنان کو بھی اس حدیث کو ہمیشہ مدنظر رکھنا چاہئے۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امانتیں ضائع ہونے لگیں تو قیامت کا انتظار کرنا۔سائل نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! ان کے ضائع ہونے سے کیا مراد ہے؟ فرمایا : جب نا اہل لوگوں کو حکمران بنایا جائے تو قیامت کا انتظار کرنا۔خدمت اور عہدہ بھی ایک عہد ہے ( بخاری۔کتاب الرقاق۔باب رفع الامانة )۔۔۔۔ہمیشہ یادرکھنا چاہئے عہدیداران کو ، کارکنان کو کہ عہدہ بھی ایک عہد ہے، خدمت بھی ایک عہد ہے جو خدا اور اس کے بندوں سے ایک کارکن ، ایک عہدیدار، اپنے فرائض کی ادائیگی کے لئے کرتا ہے۔اگر ہر عہدیدار یہ سمجھنے لگ جائے کہ نہ صرف قول سے بلکہ دل کی گہرائیوں سے اس بات پر قائم ہو کہ خدمت دین ایک فضل الہی ہے۔میری غلط سوچوں سے یہ فضل مجھ سے کہیں چھن نہ جائے تو ہماری ترقی کی رفتار اللہ تعالیٰ کے فضل سے کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے، ایک سوچنے کا مقام ہے کہ امانت ایمان کا حصہ ہے، اگر امانت کی صحیح ادائیگی نہیں کر رہے، اگر اپنے عہد پر صیح طرح کار بند نہیں ، جو حدود تمہارے لئے متعین کی گئی ہیں ان میں رہ کر خدمت انجام نہیں دے رہے تو اس حدیث کی رو سے ایسے شخص میں دین ہی نہیں اور دین کو درست کرنے کے لئے اپنی زبان کو درست کرنا ہوگا۔اور فرمایا کہ زبان اس وقت تک درست نہ ہوگی جب تک دل درست نہ ہوگا۔اور پھر ایک کڑی سے دوسری کڑی ملتی چلی جائے گی۔تو حسین معاشرے کو قائم رکھنے کے لئے ان تمام امور کی درستی ضروری ہے۔ایک بات اور واضح ہو کہ صرف منہ سے یہ کہہ دینے سے کہ میرا دل درست ہے، کافی نہیں۔ہر وقت ہم میں سے ہر ایک کے ذہن میں یہ بات رہنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ دلوں کا حال جانتا ہے۔وہ ہماری پاتال تک سے واقف ہے۔وہ سمیع و بصیر ہے اس لئے اپنے تمام قبلے درست کرنے پڑیں گے۔تو خدمت دین کرنے کے مواقع بھی ملتے رہیں گے۔تو یہ تقویٰ کے معیار قائم رہیں گے تو نظام جماعت بھی مضبوط ہوگا اور ہوتا چلا