سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 234
234 سبیل الرشاد جلد چہارم تمہیں بلایا جا رہا ہے ، جس کا اعلان منہ سے کیا ہے اس کا اپنے نمونوں سے بھی اعلان کرو۔دلوں میں بٹھا ؤاس کو اور اس کا اظہار کرو۔یہ تمہارے فائدہ کے لئے ہے۔اگر تم اس کا فائدہ جانو تو کبھی ذرہ بھر بھی تمہارے دل میں یہ خیال پیدا نہ ہو یا یہ گنجائش نہ رکھو کہ ہم نے دنیا کو دین پر مقدم کرنا ہے بلکہ ہمیشہ دین تمہاری دنیا پر مقدم رہے گا۔پس یہ سوچیں ہیں جو ہم نے اپنے اندر پیدا کرنی ہیں۔جو زمین و آسمان کا مالک ہے، جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے، جو نہ اونگھتا ہے نہ سوتا ہے اور نہ تھکتا ہے تو کیا وہ اپنے نبی کی مدد سے تھک جائے گا؟ یہ تو خیال ہی باطل ہے۔پس ہمیں اپنے جائزے لینے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔اپنی عبادتوں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔اپنی اطاعت میں کامل ہونے کی ضرورت ہے۔اخلاق میں اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔انصار اللہ کا مطلب ہے دعوت الی اللہ کے ذمہ دار بن جاؤ دعوت الی اللہ کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے اور پہلے سے بڑھ کر ضرورت ہے۔اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے جو ہوا چلائی ہے کہ اللہ تعالیٰ خود بخود دلوں کو پھیر رہا ہے۔اگر ہماری کوشش سے کسی کا دل پھرتا ہے تو اس کا ثواب ملے گا کیونکہ دعوت الی اللہ بڑا کام ہے جس کے ذریعہ غلبہ ہونا ہے۔اللہ تعالیٰ تو دلوں کو پھیر رہا ہے۔جن کے دل اللہ تعالیٰ پھیرنا چاہتا ہے، جنہیں ہدایت دینا چاہتا ہے وہ پیغام کے متلاشی ہیں۔اگر یہ پیغام آپ کے ذریعہ پہنچ جائے تو اس کا ثواب ہے۔اللہ تعالیٰ نے جو کہا کہ انصار اللہ بن تو اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ دعوت الی اللہ کے ذمہ دار بن جاؤ۔دلوں کو پھیرنا تو اللہ تعالیٰ کا کام ہے اور اس نے اس کا اعلان فرمایا ہوا ہے لیکن جب دلوں کو پھیر نے کی یہ ہوا چل رہی ہے تو اس میں جب تم مددگار بنے کا اعلان کر رہے ہو گے تو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بن رہے ہو گے۔پس اس طرف خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔نیک لوگوں کی ، پاک لوگوں کی اللہ تعالیٰ کے مددگاروں کی اور ان لوگوں کی جو دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والے ہیں اللہ تعالیٰ نے کیا نشانی بتائی ہے۔فرمایا وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ أُولئِكَ هُمُ المُفلِحُونَ ( آل عمران : 105) اور چاہئے کہ تم میں سے ایک جماعت ہو جو بھلائی کی طرف بلاتے رہیں ، اچھی باتوں کی تعلیم دیں، بری باتوں سے روکیں اور یہی ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔اب اس میں انصار اللہ کے مختلف طبقوں کے جو لوگ ہیں وہ ہر ایک اپنے اپنے جائزے لیں۔65 سال سے اوپر کے انصار اپنے عزیز واقارب کو نیکی کا پیغام پہنچائیں جو سمجھتے ہیں کہ 65 سال کے بعد ہم ریٹائر ڈ ہو گئے ، کچھ کام نہیں کر سکتے ، ان کو اس نیکی سے محروم نہیں کیا