سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 6 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 6

6 سبیل الرشاد جلد چہارم کی کوشش کی جاتی ہے اور پھر آپ کس کو ووٹ دیتے ہیں یا کم از کم یہی ایک متقی کی کوشش ہونی چاہئے کہ اس کو ووٹ دیا جائے جو آپ کے نزدیک سب سے زیادہ اللہ کا خوف رکھنے والا ہے۔جس عہدے کے لئے منتخب ہو رہا ہے اس کا کچھ نہ کچھ علم بھی اس کو ہو۔پھر جماعت کے کاموں کے لئے وقت بھی دے سکتا ہو۔جس حد تک اس کی طاقت میں ہے وقت کی قربانی بھی دے سکتا ہو۔پھر صرف اس لئے کسی کو عہد یدار نہ بنائیں کہ وہ آپ کا عزیز ہے یا دوست ہے۔اور اتنا مصروف ہے کہ جماعتی کاموں کے لئے وقت نکالنا مشکل ہے۔لیکن عزیز اور دوست ہونے کی وجہ سے اس کو عہد یدار بنانے کی کوشش کی جائے تو یہ ہے امانت کے حقدار کو امانت کو صحیح طرح نہ پہنچانا۔اس نیت سے جب انتخابات ہوں گے کہ صحیح حقدار کو یہ امانت پہنچائی جائے تو اس میں برکت بھی پڑے گی، انشاء اللہ اور اللہ سے مدد مانگنے والے، نہ کہ اپنے اوپر ناز کرنے والے، اپنے آپ کوکسی قابل سمجھنے والے عہدیدار او پر آئیں گے۔اور جن کے ہر کام میں عاجزی ظاہر ہوتی ہوگی اور یہی لوگ آپ کے حقوق کا صحیح خیال رکھنے والے بھی ہوں گے۔اور نظام جماعت کو صحیح نہج پر چلانے والے بھی ہوں گے۔بعض دفعہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں عہد یدار بناؤ۔ان کے بارہ میں یہ حدیث ہے جو حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل نے حقائق الفرقان میں Quote کی ہے کہ حضرت نبی کریم کے روبرو دو شخص آئے کہ ہمیں کام سپر د کیجئے ، ہم اس کے اہل ہیں۔فرمایا : جن کو ہم حکم فرما دیں، خُدا اُن کی مدد کرتا ہے۔جو خود کام کو اپنے سر پر لے، اس کی مدد نہیں ہوتی۔پس تم عہدے اپنے لئے خود نہ مانگو " عہدیدار کے پاس اگر کسی کا کوئی معاملہ آئے وہ امانت ہے ( حقائق الفرقان جلد نمبر 2 صفحہ 30 ) پھر عہد یداران ہیں ان کو یہ بات یادرکھنی چاہئے بلکہ جماعت کا ہر کارکن یہ بات یادر کھے کہ اگر کسی دفتر میں کسی عہدیدار کے پاس کوئی معاملہ آتا ہے یا کسی کا رکن کے علم میں کوئی معاملہ آتا ہے چاہے وہ ان کی نظر میں انتہائی چھوٹے سے چھوٹا معاملہ ہو۔وہ اس کے پاس امانت ہے اور اس کو حق نہیں پہنچتا کہ اس سے آگے یہ معاملہ لوگوں تک پہنچے۔ایک راز ہے، ایک امانت ہے، پھر کسی کی کمزوریوں کو اچھالنا تو ویسے بھی نا پسندیدہ فعل ہے اور منع ہے بڑی سختی سے منع ہے۔اور بعض دفعہ تو یہ ہوتا ہے کہ کسی بات کا وجود ہی نہیں ہوتا اور وہ بات بازار میں گردش کر رہی ہوتی ہے۔اور جب تحقیق کرو تو پتہ چلتا ہے کہ فلاں کا رکن نے فلاں سے بالکل اور رنگ میں کوئی بات کی تو جوکم از کم نہیں تو سو سے ضرب کھا کر باہر گردش کر رہی ہوتی ہے۔تو جس کے متعلق بات کی جاتی ہے جب اس تک یہ بات پہنچتی ہے تو طبعی طور پر اس کے لئے تکلیف کا باعث ہوتی ہے۔اول تو بات اس طرح ہوتی نہیں اور اگر ہے بھی تو تمہیں کسی کی عزت اچھالنے کا کس نے اختیار دیا ہے۔