سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 222
222 سبیل الرشاد جلد چہارم چاہتے ہیں، جائیدادیں نہیں لینا چاہتے۔پھر بعض انصار نے تو یہ قربانیاں دیں کہ اپنی دو بیویوں میں سے ایک کو طلاق دینے پر تیار ہو گئے کہ تم اس سے شادی کر لو۔تمہاری بیوی نہیں ہے۔تو ان کے قربانیوں کے معیار بلند تھے اور اس کو بلند تر کرتے چلا جانا چاہتے تھے۔حضور انور نے فرمایا۔پس پہلی بات تو یہ ہے کہ ایک احمدی کو اپنے ان معیاروں کو بھی دیکھنا چاہئے کہ اس میں کس حد تک اپنے بھائیوں کے لئے قربانی کا جذبہ ہے۔صرف اپنے نفس کا خیال نہ ہو بلکہ دوسروں کا بھی خیال ہو۔صرف اپنی ہی نہ پڑی رہے بلکہ دوسرے کا بھی خیال رکھنے والے ہوں۔اور آپس میں جب ایک دوسرے کے خیال رکھنے کا احساس پیدا ہوگا تو پھر رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ (الفتح: 30) کی کیفیت بھی سامنے آئے گی، آپس میں محبت اور پیار بڑھے گا ، جماعت میں یکسانیت پید ہوگی ، یگانگت پیدا ہوگی ، محبت پیدا ہوگی ، بھائی چارہ پیدا ہوگا اور پھر جب یہ چیز ہوگی تو جہاں آپ کا اپنا تعلق خدا تعالی سے بڑھے گا وہاں اس ایک ہونے کی وجہ سے جماعت میں مضبوطی پیدا ہوگی اور خلافت میں مضبوطی پیدا ہوگی اور پھر جماعت کا ترقی کی طرف قدم بڑھے گا۔حضور انور نے فرمایا۔پھر صرف یہ قربانیاں نہیں بلکہ جنگ جب ہوئی۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا صحابہ سے کہ دشمن حملہ کرنے لگا ہے کیا رائے ہے تمہاری؟ جب آپ نے بار بار پوچھا تو انصار کو خیال آیا کہ ہم سے پوچھا جا رہا ہے کہ تمہاری کیا رائے ہے تو انصار نے جواب دیا کہ حضور جب تک ہمیں اسلام کا پوری طرح فہم و ادراک نہیں تھا اور آپ کے نام کی پہچان نہیں تھی تب ہم نے کہا تھا کہ ہم ان شرطوں کے ساتھ آپ کی حفاظت کریں گے۔لیکن آج جب ہمیں پوری طرح فہم وادراک حاصل ہو گیا ہم وہ لوگ ہیں جو آپ کے آگے بھی لڑیں گے، آپ کے پیچھے بھی لڑیں گے، آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور آپ کے بائیں بھی لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا۔تو یہ وہ مقام ہے جو اس زمانہ میں انصار اللہ نے پایا۔اور یہ وہ مقام ہے جس کے حاصل کرنے کی آپ سے توقع کی جاتی ہے بلکہ انصار کے وہ بچے جوان کے ساتھ جنگ میں شامل ہوئے بالغ اور صاحب فراست انصار نہیں تھے ان میں بھی ایسے بچے تھے جیسے معوذ اور معاذ کی مثال دی جاتی ہے جنہوں نے اپنی جان قربان کردی اور دشمن اسلام کو قتل کر کے رکھ دیا۔ابوجہل کو زمین میں خاک و خون میں لپٹا دیا۔تو یہ روح جب تک بڑوں میں پیدا نہیں ہوتی اس وقت تک بچوں میں پیدا نہیں ہو سکتی۔ان بچوں نے بھی تو بڑوں سے ہی سنا تھا کہ کون ہے وہ اسلام کا دشمن ، کون ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن جس نے اس حد تک آپ کو تکلیفیں دیں۔ہم ہوں گے اس کو قتل کرنے والے اور اس کو خاک آلود کرنے والے۔تو یہ جذبہ جب تک آپ لوگوں میں پیدا نہیں ہوگا ، آپ اس جذبے کو آگے اپنے بچوں اور اولادوں میں پیدا نہیں کر سکتے۔