سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 218 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 218

سبیل الرشاد جلد چہارم 218 قرآن کریم میں انصار اللہ کے لفظ کا استعمال حضور انور نے فرمایا قرآن کریم میں انصار اللہ کا لفظ دو جگہ آیا ہے اور ہر جگہ حضرت عیسی علیہ السلام کے حوالہ سے بات کی گئی ہے۔آپ نے اپنے ماننے والوں سے پوچھا کہ مَنْ أَنْصَارِى إِلَى الــلــه (الصف: 15 ) کہ کون ہیں جو اللہ کی طرف بلانے میں میرے انصار ہوں گے۔تو حواریوں نے یہی جواب دیا نَحْنُ انصار الله کہ ہم ہیں وہ انصار وہ مددگار جو اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچانے کے لئے آپ کے مددگار ہوں گے۔یہ ایک عہد تھا جو انہوں نے کیا اور نبھانے کی کوشش کی اور یہی عہد آپ بھی کر رہے ہیں۔آپ کو نام دیا گیا ہے انصار اللہ کا۔صرف نام دینا کافی نہیں ہے۔ہر وقت یا درکھیں کہ اسلام کی روح کیا ہے۔اسلام کے اندر کیا کیا گہری باتیں ہیں جن کا ہم نے خیال رکھنا ہے۔جن کا ہمیں ہر وقت احساس ہونا چاہئے۔حواری کا مطلب کیا ہے ؟ حواری کا مطلب ہے جو کپڑے دھو کر صاف کرے ایسا شخص حواری کہلاتا ہے جو دھلائی کرنے والا ہو۔کپڑوں کی دھلائی کر کے ان کو صاف کر دینے والا ہو۔پھر حواری کا مطلب ہے ایسا شخص جو امتحانوں سے آزمایا جائے اور ان میں سے کامیاب ہو کر نکلے، کبھی کمزوری دکھانے والا نہ ہو۔پھر حواری ایسے شخص کو بھی کہتے ہیں جس کے کردار میں کوئی ملونی اور ملاوٹ نہ ہو۔ایسا پاک صاف کردار ہو کہ جو کہہ رہا ہے اس پر عمل بھی کر رہا ہے۔اب آپ گہرائی میں جا کر دیکھیں کہ کتنی بڑی ذمہ داری ہے جو انصار اللہ پر پڑتی ہے۔جو یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم انصار اللہ ہیں۔پھر حواری اس کو کہتے ہیں کہ جس کے مشورے اور عمل ایمانداری اور وفا کے ساتھ ہوں۔پھر حواری کا ایک مطلب یہ ہے کہ سچا، وفادار دوست اور مددگار۔پھر حواری کے ایک معنی یہ ہیں نبی کا خاص چنیدہ اور وفادار۔حضور نے فرمایا کہ اب یہ سارے مطلب آپ دیکھیں تو ایسے ہیں جو ایک بہت بڑی ذمہ داری ڈالتے ہیں اور ان رشتوں سے، ان تعلقات سے یہ امید رکھی جاتی ہے کہ اپنا حق نبھانے کی کوشش کریں گے۔کپڑے صاف کر کے دھونا ، دھونا کسی کو صاف کرنے کے لئے۔اس سے ایک ذمہ داری یہ بھی آپ پر پڑی کہ اپنے دلوں کو بھی دھونا ہے اور دوسروں کے دلوں کو بھی دھونا ہے۔اور ہر آزمائش سے کامیابی سے گزرنا ہے۔آج کل کی دنیا میں ، ان ملکوں میں ہزاروں آزمائشیں آپ کے رستہ میں ہوں گی۔آپ کے کام ہیں، آپ کی مصروفیات ہیں لیکن دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا جو عہد کیا ہے اس کو پورا کرنا ہے تبھی آپ انصاراللہ کہلائیں گے تبھی آپ وہ حواری کہلائیں گے جنہوں نے انصار اللہ ہونے کا حق ادا کیا۔حضور نے فرمایا: آپ کا کردار ایسا ہو جس میں کوئی ملونی اور ملاوٹ نہ ہو۔جو کہا ہے اس پر عمل کرنا ہے۔یہ نہیں کہ عمل کچھ اور ہوں اور کہ کچھ اور رہے ہوں۔مسجد میں آئیں تو اور رویے ہوں ، باہر جائیں تو اور رویے