سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 200
سبیل الرشاد جلد چہارم 200 اگر ذیلی تنظیمیں اور جماعتی نظام فعال ہو جائیں تو ہماری ترقی کے قدم کئی گنا بڑھ جائیں عہد یداران مجلس انصاراللہ برطانیہ کے ریفریشر کورس کا انعقاد 2008ء کا سال جماعت احمدیہ میں خلافت جوبلی کا سال تھا۔اس سال کے دوران ہونے والے پروگراموں کو کامیاب طور پر منعقد کرنے کیلئے عہدیداران کی تربیت واصلاح بہت ضروری تھی۔مجلس انصاراللہ برطانیہ نے اس سال عہدیداران کا مورخہ 19-20 جنوری 2008ء کو ایک ریفریشر کورس منعقد کروایا۔اس کے اختتامی اجلاس میں حضرت خلیفتہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے انصار عہدیداران کو زریں نصائح سے نوازا۔حضور انور ایدہ اللہ نے تشہد وتعوذ کی تلاوت کے بعد فرمایا کہ " ریفریشر کورسز میں عموماً اتنی فارمل (Formal) تقریریں یا ایڈریس تو نہیں ہوتا اور میرا بھی خیال تھا کہ یہاں جور پورٹ ہوگی ذرا تفصیل سے ہوگی اور میں دیکھوں گا کہ کس حد تک انصار اللہ مختلف اپنی اپنی زعامتوں میں جوان کے سپرد کام ہیں ان کو سرانجام دے رہی ہے۔حضور نے فرمایا کہ انصار اللہ کی تنظیم کے بارہ میں عموماً یہ تاثر ہوتا ہے ، اور یہ آج کا نہیں بڑا پرانا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی فرمایا کرتے تھے کہ مجھے مجھے نہیں آتی کہ جب ایک خادم انصار اللہ کی تنظیم میں قدم رکھتا ہے یعنی 40 سال کے اوپر بڑھتا ہے تو وہ ایک دم سُست کیوں ہو جاتا ہے۔حالانکہ ایک دن کا عمر کا فرق پڑا ہوتا ہے۔تو انصار اللہ کا نام بھی اسی سوچ کے ساتھ رکھا گیا تھا کہ یہ نہ سمجھیں کہ آپ اب بوڑھے ہو گئے ہیں۔اللہ کے انصار بننے والے یہ سوچ نہیں رکھتے۔بچوں کی نگرانی والدین کی ذمہ داری ہے حضور نے فرمایا کہ عموماً میں نے دیکھا ہے اللہ کے فضل سے یو کے میں انصار کی بہت تعداد ایسی ہے جو اس سوچ کے رکھنے والے نہیں ہیں لیکن پھر بھی میں کہتا ہوں کہ وہ اتنے Active نہیں جتنا ہونا چاہئے۔اگر انصار اللہ کی تنظیم مستعد ہو جائے تو جس طرح میں مختلف خطبات میں انصار اللہ کو توجہ دلاتا رہا ہوں کہ نمازوں کی ذمہ داری سنبھالیں۔اپنی نمازوں کی حفاظت کریں اور اپنے گھروں کی نمازوں کی بھی حفاظت کریں اور گھروں کی نمازوں کی حفاظت یہی ہے کہ اپنے بچوں کو دیکھیں ، خاص طور پر لڑکوں کو جو خدام کی عمر کو پہنچے ہیں۔