سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 195 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 195

سبیل الرشاد جلد چہارم 195 اور خود پسند لوگ ، نہ کہ وہ لوگ کہ جب تک مفاد ہو ا طاعت پر زور دیتے رہیں اور جب مفاد نہ رہا تو اطاعت بھی ختم ہوگئی۔جرمن نواحمدی ماشاء اللہ نظام جماعت کو سمجھنے میں بھی بہت ترقی کر رہے ہیں۔ایک جرمن نو جوان نے سوال کیا کہ ایک طرف جماعت کا کام ہے، یعنی جماعتی نظام کا جو جماعت کے کسی عہد یدار کی طرف سے ان کے سپرد کیا جاتا ہے۔دوسری طرف ذیلی تنظیموں ، خدام ، انصار اور لجنہ کے کام ہیں جو ان کے عہد یداروں کی طرف سے سپرد کئے جاتے ہیں۔مثلاً ایک ہی وقت میں مجھے جماعتی عہد یدار بھی ایک کام کہتا ہے اور خدام الاحمدیہ کا عہدیدار بھی ایک کام کہتا ہے اور میرا دل بھی نو جوان ہونے کی وجہ سے یہی چاہتا ہے کہ خدام الاحمدیہ کا کام کروں تو اُس وقت کس کام کو پہلے سرانجام دوں؟ مجھے ایسی صورت میں کیا کرنا چاہئے۔اس کو تو میں نے اس کا تفصیلی جواب دیا تھا، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہمیشہ یہ یادرکھیں کہ جماعتی نظام ایک مرکزی نظام ہے اور خدام، لجنہ اور انصار ذیلی تنظیمیں ہیں اور گو یہ ذیلی تنظیمیں بھی براہ راست خلیفہ وقت کے ماتحت ہیں ، ان سے ہدایات لیتی اور اپنے پروگرام بناتی ہیں لیکن جماعتی نظام بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور خلیفہ وقت کے قائم کردہ نظاموں میں سے سب سے بالا نظام ہے۔ہر ذیلی تنظیم کا ممبر جماعت کا بھی ممبر ہے اور جماعت کا ممبر ہونے کی حیثیت سے وہ جماعتی نظام کا پابند ہے۔اگر کوئی جماعتی عہد یدار کسی نوجوان کو کسی خادم کو بحیثیت فرد جماعت کوئی کام سپر د کرتا ہے اور اس دوران خدام الاحمدیہ کے عہد یدار کی طرف سے بھی کوئی کام سپر د ہوا ہے تو وہ خادم جس کے سپر د جماعتی عہدیدار نے کام سپرد کیا ہے، بحیثیت خادم نہیں بلکہ بحیثیت فرد جماعت خدام الاحمدیہ کے متعلقہ افسر کو اطلاع کر کے کہ جماعت کے عہدیدار نے میرے سپر دفلاں فوری کام کیا ہے، اس لئے میں اس کو پہلے کرنے کے لئے جارہا ہوں، اس کام کو پہلے کرے اور خدام الاحمدیہ یا کسی بھی ذیلی تنظیم کا کام بعد میں۔یہ تو ہے ہنگامی موقع پر لیکن عام طور پر روٹین (Routine) کے جو کام ہوتے ہیں، اس کا سالانہ کیلنڈر جماعت کا بھی بن جاتا ہے اور ذیلی تنظیموں کا بھی اور جماعت کا کیلنڈر کیونکہ پہلے بن جاتا ہے اس لئے ذیلی تنظیمیں اپنے پروگرامز اس کے مطابق ایڈ جسٹ کریں مثلاً اجتماع ہے، ٹورنامنٹس ہیں اور مختلف جلسے ہیں۔اگر ہنگامی طور پر کوئی جماعتی پروگرام کسی جگہ بن جاتا ہے تو جماعتی پروگرام بہر حال ذیلی پروگراموں پر مقدم ہے۔ذیلی تنظیموں کے جو پروگرام ہیں ان میں براہ راست جماعتی انتظامیہ کو دخل دینے کا حق نہیں ہے، یہ بھی واضح ہونا چاہئے۔خدام الاحمدیہ کے کام میں مقامی صدران یا امیر وغیرہ کوئی دخل اندازی نہیں کر سکتے۔نہ لجنہ کے کام میں نہ انصار اللہ کے کام میں، باوجود اس کے کہ ان کا نظام بالا ہے۔اگر امراء خلاف تعلیم سلسلہ اور خلاف روایت ذیلی تنظیموں سے کوئی کام ہوتا ہوا دیکھیں تو فوری طور پر متعلقہ ذیلی تنظیم کے صدر کو بلا کر سمجھائیں، اگر مقامی طور پر ہورہا ہے تو امیر کو اطلاع دی جائے اور قائد کو سمجھایا جائے اور پھر فوری طور پر