سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 190 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 190

سبیل الرشاد جلد چہارم 190 عہدیداران سکیورٹی پر کھڑے خدام سے اپنی چیکنگ کروائیں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 27 جولائی 2007ء کو خطبہ جمعہ میں جلسہ سالانہ یو کے پر عہدیداران کو ہدایات دیتے ہوئے فرمایا۔ایک اور اہم بات سکیورٹی کے حوالے سے ہے۔سب شامل ہونے والوں سے میں کہنا چاہتا ہوں اور تمام شعبہ جات کے کارکنان سے بھی اور جلسہ میں شامل ہونے والوں سے بھی کہ اپنے اردگرد ماحول پر نظر رکھیں۔دنیا کے حالات اس قسم کے ہیں کہ کسی بھی قسم کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔اس ضمن میں ہمیں خواتین سے کہنا چاہتا ہوں کہ بعض دفعہ چیکنگ سے وہ بُرا مان جاتی ہیں، اس لئے مکمل تعاون کریں۔اگر آپ کو کوئی چیک کر لے تو اس میں کوئی بے عزتی کی بات نہیں ہے۔میں نے سنا ہے کہ بعض شکوہ کرتے ہیں کہ ہم فلاں عہد یدار کی عزیز یا خود عہدیدار ہیں اور اس کے باوجود انہیں چیک کیا گیا۔ہر عہد یدار یا کسی عزیز کو ہر ڈیوٹی والا تو جانتا نہیں ہے۔بعض دفعہ عورتوں کو بیگوں کی وجہ سے زیادہ چیک کرنا پڑتا ہے یہ مجبوری ہے۔میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ اگر مردوں کو بھی چیک کیا جائے تو انہیں برانہیں منانا چاہئے۔مجھے یاد ہے کہ ربوہ میں مسجد اقصیٰ میں جمعہ اور عیدین پر چیکنگ ہوتی ہے اور کئی دفعہ مجھے بھی چیک کیا گیا، میں نے تو کبھی برا نہیں منایا بلکہ جب حضرت خلیفہ امسیح الرابع ” نے مجھے امیر مقامی بنایا تو تب بھی ایک دفعہ مجھے چیک کیا گیا۔تو چیکنگ میں کبھی برا نہیں منانا چاہئے۔آپ کا مکمل تعارف ہر خادم کو نہیں ہوتا جیسا کہ میں نے آپ کو کہا۔تو اس لئے اس نظام سے بھی مکمل طور پر تعاون کریں اور یہ اعتراض پیدا نہ ہو کہ مجھے کیوں چیک کیا گیا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھی ایک واقعہ ہے کہ قادیان میں جب احرار کا خطرہ تھا اور خیال تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مزار یا دوسری قبروں کی وہ لوگ بے حرمتی نہ کر میں تو حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے بہشتی مقبرہ میں خدام کا پہرہ لگوایا اور کوڈ نمبر دیے کہ جو بھی ہوا گر کوئی کوڈ نمبر کے بغیر اندر آنے کی کوشش کرے اس کو اندر نہیں آنے دینا تو ایک دفعہ چیک کرنے کے لئے حضرت خلیفہ اسیح الثانی خود چھپ کر گئے۔غالبا رات کا وقت تھا۔خدام نے روکا۔آپ نے اپنا نام بتایا۔خدام نے کہا نہیں اس طرح اجازت نہیں مل سکتی جب تک آپ اپنا کوڈ نمبر نہیں بتائیں گے اور اس بات پر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے بڑی خوشنودی کا اظہار فرمایا کہ یہ خدام ہیں جنہوں نے اپنی صحیح ڈیوٹی دی ہے۔تو یہ جو انتظام ہے یہ ہمارے اپنے ہی فائدے کے لئے ہے۔اس میں کسی بھی قسم کی برا منانے والی بات نہیں ہے۔لیکن ڈیوٹی والی خواتین ہیں یا مرد ہیں ان کو بھی میں کہتا ہوں کہ آپ لوگوں کو اپنے رویوں سے کسی بھی قسم کا ایسا اظہار نہیں کرنا چاہئے جس سے سختی، کرختگی یا کسی بھی طرح کا یہ احساس ہو کہ آپ دوسرے سے عزت سے پیش