سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 169
169 سبیل الرشاد جلد چہارم فرمائی۔جس میں حضور نے تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد قرآن مجید کے تین مختلف مقامات سے آیات قرآنیہ کی تلاوت کی جن میں انصار کا ذکر ہے اور فرمایا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دفعہ انصار کو مخاطب کرتے ہوئے اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی یا یہ وضاحت کی تھی کہ قرآن کریم میں انصار کا لفظ ماننے والوں کیلئے دو جگہ استعمال ہوا ہے۔ایک دفعہ حضرت عیسی علیہ السلام کے حواریوں کے متعلق اور ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے متعلق یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔یہ ایک بڑا اہم نکتہ ہے۔اگر انصار اس پر غور کریں تو مجلس انصار اللہ جماعت کا ایک انتہائی فعال حصہ بن سکتی ہے۔اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اگر جائزہ لیں کہ ہم کس حد تک اس پر عمل کر رہے ہیں تو آپ کو خود ہی احساس ہوگا کہ ابھی بہت بڑا وسیع میدان خالی پڑا ہے۔حضرت عیسی کے تعلق میں انصار کا ذکر قرآن کریم میں جہاں حضرت عیسی علیہ السلام کے تعلق میں انصار کا ذکر آتا ہے وہاں ایک جگہ تو خود حضرت عیسی قوم کے آپ کی تعلیم پر انکار اور عبادتوں کی طرف توجہ پر انکار کاسن کر بڑے درد سے اعلان کرتے ہیں کہ اکثریت تو ان حکموں پر عمل کرنے اور میری بات سننے سے انکاری ہے کیا تم میں سے کوئی خوش قسمت ہے جو اللہ کا پیغام پہنچانے اور اسکے حکموں پر عمل کرنے میں میرا معاون و مددگار بن جائے۔اس پر حواریوں نے کہا کہ نَحْنُ أَنْصَارُ اللہ ہم اللہ کے دین کے مددگار ہیں اور ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ پر مکمل ایمان لاتے ہوئے اطاعت اور فرمابرداری میں صف اول میں شمار ہوتے ہیں۔پھر دوسری جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم مکمل ایمان لائے اور اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکموں پر عمل کرتے ہیں۔پھر اس دعوی کی ایک صورت اس زمانے میں پیدا ہوئی جب ہم یہ دعوی کرتے ہیں کہ اس زمانہ کے امام کو مان کر ہم اسکی جماعت میں شامل ہوئے ہیں۔اسکی باتوں پر مکمل عمل کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔پھر جب حضرت عیسی علیہ السلام کے حواریوں کی طرح اس طرف بلایا گیا کہ دین کی اشاعت اور اسکی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے کیلئے میرے مددگار بن جاؤ اور یہ کام تم اس وقت تک نہیں کر سکتے جب تک تمہارا ایمان مضبوط نہ ہو تو صرف اتنا کہہ کر کہ ہم نے زمانہ کے امام کو مان لیا ہے یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی اگر بات ہو رہی ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے صرف اتنا نہیں کہا تھا کہ ہم آپ پر ایمان لے آئے بلکہ قربانیوں کے اعلیٰ معیار بھی قائم کئے اور اس زمانہ میں بھی یہ نہیں ہوگا کہ صرف اتنا کہ دینے سے کہ ہم نے امام کو مان لیا ہے تو ایمان حاصل ہو گیا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مثال دے کر بتا دیا ہے کہ اعراب کہتے ہیں ، دیہاتوں کے رہنے والے کہتے ہیں کہ آمنا ہم ایمان لے آئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کو بتا دے کہ یہا بھی