سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 161
161 سبیل الرشاد جلد چہارم ایک دفعہ رابطہ ہو ان رابطوں کو ہفتے دو ہفتے بعد دہرایا کریں۔مسلسل اور جاری رابطہ ہونا چاہئے۔فرمایا: دیہات کا ماحول چھوٹا ہوتا ہے۔آپ کسی کو ملنے جائیں تو اور لوگوں کو بھی attraction پیدا ہوگی۔اس سے مزید رابطے پیدا ہوں گے۔فرمایا اس کے علاوہ یہاں مختلف قومیتیں ہیں عربوں، ترکوں اور دیگر قوموں میں سے ان لوگوں کی تلاش کریں جن کو مذہب سے دلچسپی ہے۔پہلے لوگوں کو خدا کا تصور دینا ہوگا۔پھر مزید تبلیغ ہو سکے گی۔حضور نے فرمایا کہ اپنے بچوں کو بھی تعلیم دیتے رہیں تا کہ اسلام کے لیے ان کے ذہن کھل جائیں اور ان معاشروں سے ان کے ذہنوں میں اسلام کے متعلق جو غلط نظریات پیدا ہو سکتے ہیں انہیں ان کے ذہنوں سے دور کریں۔پھر ہر جگہ کے لئے ان کے مناسب حال انہی کی زبانوں میں لٹریچر تیار کریں۔مختلف قومیتوں کے مزاج مختلف ہیں عربوں میں بھی سارے ایک جیسے نہیں۔مختلف ممالک کے لوگ مختلف مزاج رکھنے والے ہیں۔ان سب سے علیحدہ علیحدہ approach ہونی چاہئے۔فرمایا سب کو ایک دفعہ تو ہمیں تعارف کر وا دینا چاہئے تا کہ اتمام حجت تو ہو۔حضور انور نے قائد صاحب وصایا سے مجلس عاملہ کے ممبران کی وصایا کی بابت دریافت فرمایا۔حضورانور کو بتایا گیا کہ سوائے ایک کے باقی میں سے سات تو پہلے موصی تھے مزید آٹھ اب شامل ہوئے ہیں۔ایک باقی ہیں ان کا فارم بھی جلدیل جائے گا۔حضور نے فرمایا سب سے پہلے عہدیداروں کو، ناظمین زعماء سب کو تحریک کریں۔حضور نے شعبہ عمومی کو ہدایات دیتے ہوئے فرمایا کہ جور پورٹ نہیں بھیجتے انہیں پوچھا کریں۔پھر یہ بھی دیکھا کریں کہ یہ نہ ہور پورٹ میں figures کو تدریجی بڑھایا جارہا ہو اور نئے سال کی پہلی رپورٹ سے پھر ان figures کو پیچھے لا کر پہلے کی طرح انہیں زیادہ کیا جارہاہو۔نئے سال میں داخل ہو کر پچھلے سال کے figures بڑھنے چاہئیں۔حضور انور نے ایک سوال کے جواب میں مکرم صدر صاحب مجلس انصار اللہ کوفرمایا کہ جو قائدین با وجود توجہ دلانے کے پھر بھی رپورٹ نہ بھجوائیں اس کا مطلب ہے کہ وہ کام نہیں کرنا چاہتے۔فرمایا جن کی مسلسل تین ماہ کی رپورٹ نہ آئی ہو انہیں فارغ کر کے ان کی جگہ نئے آدمی nominate کریں۔(اس موقع پر مکرم امیر صاحب جرمنی نے عرض کی کہ کیا انہیں پہلے وارنگ نہیں دینی چاہئے؟ فرمایا انہیں پہلے سے خبر دار کرنا چاہئے کہ اپنی سنتی دور کریں ورنہ پھر آپ اس خدمت سے محروم کر دئیے جائیں گے ) حضور انور کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ ہمارا ایک چیریٹی واک (charity walk) کا پروگرام بھی ہے۔فرمایا: ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوں کہیں ایسا نہ ہو جائے ، کہیں ایسا نہ ہو جائے فرمایا: پہلے بھی کئی پروگرام بن چکے ہیں اب عملی جامہ پہنائیں۔