سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 160
سبیل الرشاد جلد چہارم 160 ضرورختم ہونی چاہئے۔فرمایا حضرت مسیح موعود کی چھوٹی کتابیں شروع کر لیں اور ایک ایک کر کے پڑھا دیں۔قائد صاحب ایثار سے فرمایا کہ ایثار کا مطلب ہی خدمت خلق ہے۔آپ لوگوں کو بوڑھوں کے ہوسٹلوں میں جانا چاہئے۔اپنی عمر کے لوگوں سے تعلقات بڑھائیں۔حضور انور نے آڈیٹر صاحب سے فرمایا کہ آپ کیسے آؤٹ کرتے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ پہلی سہ ماہی کا تو ہو چکا ہے مزید بیرون ملک سفر کی وجہ سے نہیں ہو سکا۔فرمایا کہ ہر ماہ ہونا چاہئے۔قائد صاحب مال سے شعبہ مال کے کل بجٹ ، اب تک کی وصولی، فی کس چندوں کی شرح کی بابت دریافت فرمایا۔چندہ اجتماع کے متعلق فرمایا کہ اس کے لیے آمدنی کی پرسنٹیج (percentage) پر چندہ نہیں ہے بلکہ اس کے لیے فی کس رقم مقرر کرنی چاہئے۔حضور انور کو بتایا گیا کہ پہلے 40 مارک لیے جاتے تھے اب یورو کا جب سے نظام چلا ہے اس وقت سے 14 یورو فی کس وصول کیا جاتا ہے۔اس پر حضور انور نے فرمایا کہ 14 یورو تو 40 مارک کے مقابل پر کم بنتے ہیں۔یہ تو کم از کم 25 یورو کے برابر بنتے ہیں۔اتنا تو کم از کم چندہ رکھنا چاہئے تھا۔آپ تو ترقی معکوس کر رہے ہیں جو آپ کو نہیں کرنی چاہیئے۔حضور انور نے شعبہ تربیت اور تعلیم القرآن کے جائزہ کے دوران دریافت فرمایا کہ پہلے مساجد اور نماز سنٹرز کی تعداد معلوم کریں۔پھر یہ دیکھیں کہ کتنی مجالس میں نماز با جماعت کا انتظام ہے۔اور ہر جگہ کم از کم دو نمازیں تو با جماعت ہونی چاہئیں۔حضور انور کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ مارچ میں ہم نے ہفتہ تربیت منایا تھا اور اپریل کی رپورٹس سے پتہ چلا ہے کہ نمازیں ادا کرنے والوں اور تلاوت کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔فرمایا کہ اب پھر رپورٹ منگوائیں اور دیکھیں کہ کیا یہ تبدیلی صرف ہفتہ تربیت کے دوران تھی یا بعد میں بھی جاری ہے۔انصار کو بچوں کی تربیت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضور انور نے فرمایا کہ صف دوم کے انصار کی بڑی تعداد کے بچے چھوٹے ہیں۔بچوں کی اچھی تربیت کریں تا کہ وہ اچھے کردار والے بن سکیں۔مکرم امیر صاحب کی درخواست پر ایک بار پھر حضور انور نے اگلی نسل کو نظام جماعت سے منسلک کرنے کے لیے انصار کو نصیحت فرمائی کہ بچوں کی تربیت پر خاص توجہ دیں۔تعلیم القرآن کے جائزہ کے دوران حضور انور کو بتایا گیا کہ اساتذہ تیار کرنے کی کلاس ہوئی تھی اور بارہ اساتذہ تیار ہوئے ہیں۔فرمایا کیا وہ سب پڑھا رہے ہیں؟ اگر نہیں تو اب ان سے کام لیں۔کوئی نتیجہ سامنے آنا چاہئے۔نو مبائعین کے شعبہ کو ہدایات دیتے ہوئے حضور انور نے فرمایا انہیں ذیلی تنظیموں سے منسلک کرنے کے ساتھ ساتھ main stream میں بھی شامل کریں اور جماعت کے نظام میں absorb کریں۔حضور انور نے شعبہ تبلیغ کو بھی اپنی قیمتی نصائح سے نوازا۔فرمایا شہروں میں بھی تبلیغ جاری رکھیں لیکن شہروں کی بجائے دیہاتوں کا رخ کریں۔دیہات کہیں کے بھی ہوں وہاں کا ماحول سادہ ہوتا ہے۔جن سے