سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 159
سبیل الرشاد جلد چہارم 159 اللہ تعالیٰ جماعت کو ایسے لوگ عطا کرتا رہے گا جو نَحْنُ أَنْصَارُ اللہ کا نعرہ لگانے والے ہوں گے ا حضور انور ایدہ اللہ تعالی نے 4 جون 2006ء کوجلسہ سالانہ پیجیم میں اختتامی خطاب کے دوران والدین کو یوں توجہ دلائی۔" آپ میں اکثر ان لوگوں کی اولاد ہیں جن کے آباء واجداد نے احمدیت کے لئے تکالیف اٹھائیں لیکن وہ اپنے ایمان میں ہر دن چڑھنے پر مضبوط سے مضبوط تر ہوتے گئے۔حضرت مسیح موعود سے جو وعدے اللہ تعالیٰ نے فرمائے تھے انہیں ہم ہر روزنئی شان سے پورا ہوتے دیکھتے ہیں۔آج احمدیت میں کئی ایسی مثالیں موجود ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے رہنمائی پاکر کئی سعید فطرت لوگ احمدیت میں شامل ہوئے اللہ تعالیٰ جماعت کو ایسے لوگ عطا کرتا رہے گا جو نَحْنُ أَنْصَارُ اللہ کا نعرہ لگانے والے ہوں گے اور تقویٰ کی راہوں پر چلتے رہیں گے۔اگر آپ لوگ جو ان کی اولاد ہیں۔ان کے نقش قدم پر نہ چلے تو اللہ تعالیٰ اور لوگ لے آئے گا جو تقویٰ کی راہوں پر چلنے والے ہوں گے۔لیکن آپ لوگ ان برکتوں سے محروم ہو جائیں گے" (ماہنامہ اخبار احمد یہ برطانیہ صفحہ 13-14 ) لوگوں کے ذہن بدلنے میں چیریٹی واکس اہم رول ادا کرتی ہے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 12 تا 20 جون 2006ء کو جرمنی اور ہالینڈ کا دورہ فرمایا۔جرمنی کے قیام کے دوران مورخہ 14 جون کو بیت السبوح میں نیشنل مجلس عاملہ انصار الله جرمنی کی میٹنگ میں آپ نے شمولیت فرمائی اور بعض شعبہ جات کا جائزہ لے کر انہیں ان کے مناسب حال ہدایات سے نوازا حضور نے نائب صدر صف دوم سے پوچھا کہ آپ کے کتنے انصار ہیں اور کیا ان کی ورزش کا بھی کوئی پروگرام ہوتا ہے۔حضور انور کو بتایا گیا کہ انصار کے پاس سائیکلیں ہیں وہ سب سائیکل چلاتے ہیں۔اس کے علاوہ سیر اور بعض دیگر ورزشیں بھی کرتے ہیں۔حضور نے تجنید ،تحریک جدید اور صحت جسمانی کے شعبوں کا جائزہ لیا اور فرمایا کہ انصار کے مناسب حال کھیلیں ہونی چاہئیں۔مثلا رسہ کشی ،سیر، کلائی پکڑنا وغیرہ۔شعبہ تعلیم کے جائزہ کے دوران حضور انور نے قائد صاحب تعلیم سے فرمایا کہ آپ کون کون سی کتابیں پڑھا رہے ہیں اور کیا ان کا امتحان بھی لیتے ہیں؟ انہوں نے امتحان میں شامل ہونے والوں کی تعداد بتائی تو حضور انور نے فرمایا کہ یہ تو تجنید کا 1/3 بنتا ہے جو بہت کم ہے۔فرمایا کہ ایک سال میں کم از کم ایک کتاب تو