سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 153
153 سبیل الرشاد جلد چہارم تعلیم کو دیکھ کر اگر کوئی احمدیت میں شامل ہو بھی جاتا ہے تو کل اپنے ساتھ مختلف سلوک دیکھ کر دین سے متنفر بھی ہو سکتا ہے اور اگر کوئی شخص مرد یا عورت آپ عہدیداروں، چاہے وہ امیر ہو یا کوئی بھی اور ہو، یا ایک عام احمدی بھی ہو آپ لوگوں کے عمل اور رویتے دیکھ کر اور اپنے ذاتی مفادات کی ترجیحات کو دیکھتے ہوئے دین سے متنفر ہوتا ہے تو اس کا گناہ ان دوڑانے والوں کے سر پر ہے۔پس میں عہدیداروں کو چاہے وہ امیر ہوں یا کوئی دوسرے عہدیدار ہوں پہلے کہتا ہوں کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے خدمت کا جو یہ موقع دیا ہے اس میں چاہے صدر جماعت ہے یا ذیلی تنظیموں کے عہد یداران ہیں، امیر جماعت ہے آپ لوگوں کو ان لغوحرکات کو چھوڑ نا ہوگا۔اور اگر نہیں چھوڑیں گے تو جماعتی طور پر جوا یکشن ہوگا وہ تو ہوگا ہی اللہ تعالیٰ کی نظر میں بھی یہ سب کچھ ہے۔اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے کہ آپ لوگ ، عہدیداران کس طرح کام کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہاری ان تمام حرکات سے آگاہ ہوں۔پس اگر اللہ کا خوف ہے تو اپنے دلوں کو بدلیں۔اپنے عملوں کو ٹھیک کریں۔اللہ نے جو خدمت کا موقع دیا ہے اس کو فضل الہی جائیں۔اللہ تعالیٰ کا اپنے اوپر احسان سمجھیں ، نہ کہ گروپ بندیاں کر کے سیاست کی دکان چمکانے کی کوشش کی جائے۔خلیفہ وقت یا نظام جماعت کسی سے صرف نظر یا پردہ پوشی ایک حد تک کرتا ہے۔اگر حدوں سے تجاوز کرنے کی کوشش کی جائے ، یا یہ نظر آرہا ہو کہ جماعت کا وقار مجروح ہو رہا ہے تو پھر یقینا سزا بھی ملتی ہے۔پس عہد یدار خاص طور پر اور ہر احمدی عمومی طور پر اپنے رویے بدلے۔اپنے اندر اپنے بھائیوں کے لیے ہمدردی کے جذبات پیدا کریں۔اگر کسی بھائی سے معمولی غلطی ہو جاتی ہے تو اس کو معاف کرنے کی کوشش کریں۔کسی کی غلطی پر مرکز کو بھی پوری طرح واضح نہ کر کے لاعلم رکھ کر اتنی سزا نہ دلوائیں کہ وہ سزا اس جرم سے بھی زیادہ بڑھ جائے اور بے چارے کو مار کر ہی دم لیں۔ایک احمدی کے لیے چاہے وہ جیسا بھی ہو نظام جماعت سے علیحدگی اور خلیفہ وقت مار کرہی۔کی ناراضگی موت سے کم نہیں ہوتی۔پس عہدیداروں کو اپنے رویے بدلنے چاہئیں۔امیر جماعت کو اپنے رویے بدلنے چاہئیں۔اس بارہ میں پہلے بھی میں خطبات میں کہہ چکا ہوں۔یا تو یہ عہد یدار خطبات سنتے نہیں ہیں یا وہ باتیں اپنے لیے نہیں سمجھتے یا مغلوب الغضب ہو کر ان باتوں کو بھول جاتے ہیں اور اپنی اناؤں کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔یادرکھیں کہ اگر کسی کے خلاف کچی شکایت ہو تو میں اس کے بارہ میں بات کر رہا ہوں کہ اس کو اتنی ہی سزا ہونی چاہئے۔اگر جھوٹی شکایت ہوا اور صرف اپنی انانیت کی خاطر کسی کو سزا دلوائی جاتی ہے تو یہ اس حدیث کے مطابق ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی اپنی چرب زبانی کی وجہ سے اپنے حق میں میرے سے فیصلہ کر والیتا ہے اور دوسرے کا حق مارتا ہے تو وہ اپنے پیٹ میں آگ کا گولہ ڈالتا ہے۔( صحیح بخارى كتاب الشهادات باب من اقام البينة بعد اليمين حديث 2680) اگر آپ لوگ بھی خلیفہ وقت سے کسی کے خلاف ایسے فیصلے کروالیتے ہیں تو آگ کا ٹکڑا اپنے پیٹ میں