سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 152 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 152

سبیل الرشاد جلد چہارم 152 میں جا کر بیماروں سے ملیں ان کا حال دریافت کریں۔جس کو مدد کی ضرورت ہے اس کی مدد کریں۔حضور انور نے فرمایا کام کے لئے اگر راستے نکالنے ہیں تو نکل آتے ہیں۔قائد تحریک جدید اور وقف جدید کو حضور انور نے فرمایا کہ سب انصار کو اس میں شامل کریں اور انصار سے وعدے لیں۔اس بارہ میں آپ کو کوشش کرنی چاہئے۔حضور انور نے فرمایا انصار کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بوڑھے ہوگئے ہیں اس لئے سو جاؤ۔اپنے دماغ استعمال کر کے کام کریں اور جو آئندہ جزیشن (Generation) آرہی ہے اس سے بھی کام کروائیں۔آخر پر حضور انور نے تبلیغ کے بارہ میں تفصیلی ہدایات دیتے ہوئے فرمایا کہ بہت سے ملکوں کے لوگ یہاں اکٹھے ہو گئے ہیں۔مختلف پاکٹس (pockets) بنی ہوئی ہیں وہاں جا کر کام کریں۔ان لوگوں کو عربی، چائینیز ، کورین، جاپانی اور انگریزی زبان کا لٹریچر دیں۔رابطے کریں اور یہ رابطے مستقل نوعیت کے ہوں۔حضور انور نےفرمایا تبلیغ مسلسل ایک عمل ہے۔تھکنا نہیں۔بارش کے چھینٹے پھینکتے جاتا ہے کہیں نہ کہیں یہ پانی اثر کرے گا۔ہزار میں سے ایک پر بھی اثر ہو جائے تو یہ آپ کی کامیابی ہے۔فرمایا اگر آپ ایک جگہ دورے پر جاتے ہیں اور پھر چھ ماہ تک ان کو پوچھتے نہیں تو یہ ہرگز درست نہیں۔جہاں ایک دفعہ جائیں وہاں بار بار رابطہ کریں۔ایک ٹیم کو ہر دفعہ اسی جگہ پر بھیجیں اور مستقل جاتے رہیں۔حضور انور نے فرمایا دو دو آدمیوں کی ٹیمیں بنائیں اور مختلف علاقوں کا انتخاب کر کے ان کے سپرد کر دیں جہاں یہ بار بار جاتے رہیں۔حضور انور نے فرمایا کہ یہاں کے لوکل باشندےMori ہیں۔ان میں بھی تبلیغ کریں۔ان کو پہلے خدا کی طرف بلائیں۔فرمایا مختلف طرح کے لوگ ہیں۔کسی کو بتانا ہے کہ خدا ہے، کسی کو بتانا ہے کہ اسلام سچا مذہب ہے، کسی کو بتانا ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود کا دعوی سچا ہے، کسی کو بتانا ہے کہ احمدیت سچی ہے، کسی کو بتانا ہے کہ خلافت احمد یہ بچی ہے۔مختلف طبقے ہیں مختلف لوگ ہیں، ہر ایک کو ان کے حالات کے مطابق پیغام پہنچانا ہے۔(الفضل انٹر نیشنل 30 جون 2006ء) جماعتی و ذیلی تنظیموں کے عہد یدار لغوحرکات کو چھوڑ دیں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے جماعت احمد یہ جاپان کے جلسہ سالانہ کے موقع پر مورخہ 13 مئی 2006 ء کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔پس اپنے پیغام کو ، احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے خوبصورت پیغام کو اگر حقیقی طور پر اس ملک میں پھیلانا چاہتے ہیں تو آپس میں محبت اور بھائی چارے اور ہمدردی کی فضا پیدا کر یں۔اگر نہیں تو اسلام کی خوبصورت