سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page xv
سبیل الرشاد جلد چهارم χίν مسرور احمد صاحب کو آپ کی نیابت میں مسند خلافت پر متمکن فرمایا تو خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت کے طور پر الہی معیت کا یہ وعدہ کمال شان کے ساتھ آپ کے حق میں بھی جلوہ گر ہوا۔اہل ربوہ جانتے ہیں کہ خلافت سے قبل حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب کو طبعا تقریر کرنے میں حجاب ہوتا تھا۔لیکن منصب خلافت سنبھالنے کے بعد دنیا شاہد ہے کہ اللہ تعلی کے غیر معمولی فضل واحسان سے سید نا حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے حق میں تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح زبان کی گرہ کھلنے والا نشان ظاہر ہوا اور آپ کی زبان و بیان میں غیر معمولی تاثیر عطا کی گئی۔موقع ومحل اور ضرورت کے عین مطابق آپ نے جماعت کو جو خطابات فرمائے اور ذیلی تنظیموں کو جو معتین اور ٹھوس اصولی تربیتی و انتظامی ہدایات ارشاد فرمائیں وہ اس پر کافی دلیل ہیں۔مجلس انصار اللہ پاکستان نے اپنے قیام جولائی 1940ء سے خلفاء سلسلہ کی ذیلی تنظیم کے حوالہ سے ہدایات جمع کر کے ان کی اشاعت کا سلسلہ سبیل الرشاد کے نام سے شروع کیا۔اور حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے ارشادات پرمشتمل جلد اول جون 1996ء میں، حضرت خلیفہ آسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے ارشادات پر مشتمل جلد دوم 2006ء میں شائع ہوئی۔جبکہ حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے ارشادات پر مشتمل جلد سوم انصار اللہ کے پچھتر ویں سال 2014ء میں شائع ہورہی ہے۔زیر نظر سبیل ارشاد جلد چہارم ہمارے پیارے امام حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے انصار اللہ کے بارہ میں آپ کی خلافت کے پہلے گیارہ سالہ دور کے ان ارشادات پر مشتمل ہے جو مسند خلافت پر متمکن ہونے کے بعد اپریل 2003 ء سے جون 2014 ء تک آپ نے ارشاد فرمائے۔خلافت خامسہ کا بابرکت دور جہاں جماعتی ترقیات اور فتوحات کے دروازے کھلنے کا دور ثابت ہوا۔وہاں اس کے ساتھ تنظیموں نے بھی نمایاں ترقی کی۔2008ء میں خلافت جو بلی کے کامیاب اور شاندار انعقاد کی ایک برکت خلافت سے جماعت کی غیر معمولی محبت و فدائیت اور اس ادارہ کے مزید استحکام کی صورت میں ظاہر ہوئی اور حضرت خلیفتہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جماعت کو عموماً تنظیمی ذمہ داریاں زیادہ بہتر رنگ میں ادا کرنے کی طرف توجہ دلاتے رہے۔حضور انور نے اپنے خطابات میں اپنی زندگیاں قرآنی تعلیمات کے مطابق گزار نے ، تقویٰ