سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 128 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 128

سبیل الرشاد جلد چہارم 128 پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: " اطاعت ایک ایسی چیز ہے کہ اگر بچے دل سے اختیار کی جائے تو دل میں ایک نور اور روح میں ایک لذت اور روشنی آتی ہے۔مجاہدات کی اس قدر ضرورت نہیں ہے جس قدر اطاعت کی ضرورت ہے۔مگر ہاں یہ شرط ہے کہ سچی اطاعت ہو اور یہی ایک مشکل امر ہے۔اطاعت میں اپنے ہوائے نفس کو ذبح کر دینا ضروری ہوتا ہے" اپنی جو نفسانی خواہشات ، انائیں، جھوٹی عزتیں ہیں ان کو اطاعت کے لئے ذبح کرنا پڑتا ہے۔ہر سطح پر ہر احمدی کو ایک عام احمدی سے لے کر ( عام تو نہیں بلکہ ہر احمدی خاص ہے کیونکہ اس نے زمانے کے امام کو مانا ہے، عام سے میری مراد یہ ہے کہ ایک احمدی جو عہد یدار نہیں ہے، اس سے لے کر ) بڑی سے بڑی سطح کے عہد یدار تک ، ہر ایک کو اپنی نفس کی خواہشات کو کچلنا ہوگا۔اور وہ اسی وقت پتہ لگتا ہے جب اپنے خلاف کوئی بات ہو۔جہاں تک دوسروں کے معاملات آتے ہیں، ہر ایک بڑھ بڑھ کر اپنی سچائی ظاہر کرنے کے لئے گواہیاں دے رہا ہوتا ہے۔لیکن جہاں اپنا معاملہ آجائے یا اپنے بچوں کا معاملہ آجائے وہاں جھوٹ کو بنیاد بنالیا جاتا ہے۔فرمایا کہ: " اطاعت میں اپنے ہوائے نفس کو ذبح کر دینا ضروری ہوتا ہے۔بڑ وں اس کے اطاعت ہو نہیں سکتی"۔اگر یہ نفس کو ذبح نہیں کرتے تو اس کے بغیر اطاعت ہی نہیں کرتے " اور ہوائے نفس ہی ایک ایسی چیز ہے جو بڑے بڑے موحدوں کے قلب میں بھی بت بن سکتی ہے"۔بڑے بڑے جو دعویٰ کرنے والے ہیں کہ ہم عبادت کرنے والے ہیں اور ایک خدا کی عبادت کرنے والے ہیں اور اللہ کو ایک جاننے والے ہیں اور اس کا تقویٰ ہمارے دل میں ہے، خوف ہے۔جب اپنے معاملے آتے ہیں جیسا کہ میں نے کہا تو پھر یہ سب چیزیں نکل جاتی ہیں۔پھر نفس بت بن کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔پس دیکھیں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی فرمایا ہے کہ اپنے نفس کی انا کو دبانا بہت مشکل ہے۔پس اگر اللہ کی رضا حاصل کرنی ہے تو صرف زبانی نعروں سے یہ رضا حاصل نہیں ہوگی کہ ہم ایک خدا کو ماننے والے ہیں اور اس کی عبادت کرنے والے ہیں بلکہ امام الزمان ، اس کے خلیفہ اور اس کے نظام کے آگے یوں سر ڈالنا ہوگا کہ انانیت کی ذراسی بھی ملونی نظر نہ آئے، کچھ بھی رمق باقی نہ رہے۔ورنہ تو یہ انانیت کے بُت اس نظام کے خلاف کھڑے نہیں ہوتے بلکہ پھر یہ خلیفہ وقت کے مقابلے پہ بھی کھڑے ہو جاتے ہیں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے بھی کھڑے ہو جاتے ہیں۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے پر بھی کھڑے ہو جاتے ہیں۔وہاں سے بھی اطاعت سے باہر نکل جاتے ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ کے مقابلے پر بھی کھڑے ہو جاتے ہیں۔اور وہی شخص جو یہ خیال کر رہا ہوتا ہے کہ میں سب سے بڑا