سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 127
127 سبیل الرشاد جلد چہارم کے لئے جو ایمان میں ترقی کرنے والے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر عمل کرنے والے ہوں گے ، تو احمدی کے لئے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے بعد سب سے زیادہ اطاعت اولوالامر کے طور پر خلیفہ وقت کی اطاعت ہے۔پھر مرتبے کے لحاظ سے ہر سطح پر جماعتی نظام کا ہر عہد یدار قابل اطاعت ہے۔عہدیداران کسی کو تخفیف کی نظر سے نہ دیکھیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ نظام اور اولوالامر کی اطاعت یہ معیار بنے گی تمہارے ایمان کی حالت کی اور اس بات کی کہ حقیقت میں تم یوم آخرت پر ایمان لانے والے ہو۔اس یقین پر قائم ہو کہ مرنے کے بعد خدا کے حضور حاضر ہونا ہے اور وہاں یہ سوال بھی ہونا ہے کہ تم نے اپنی بیعت کے بعد اپنی اطاعت کے معیار کو کسی حد تک بڑھایا ہے۔وہاں غلط بیانی ہو نہیں سکتی۔کیونکہ جسم کے ہر عضو نے گواہی دینی ہے اور اس دن کسی کا کوئی عضو بھی اس کے اپنے کنٹرول میں نہیں ہوگا اس کی اپنی بات نہیں مانے گا بلکہ وہی کہے گا جو حق ہے، حقیقت ہے اور بیچ ہے۔پس اگر آخرت پر یقین ہے اور بہتر انجام چاہتے ہو، اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا چاہتے ہو تو اللہ اور رسول کی اطاعت کے ساتھ اولوالامر کے ہر حکم کو بھی مانو۔اس کی کسی بات کو تخفیف کی نظر سے نہ دیکھو۔کیسے ہی حالات ہوں اطاعت کا دامن کبھی نہ چھوڑو۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے اس سے دنیاوی حاکم بھی مراد ہیں۔ان کی اطاعت کرنا بھی فرض ہے اور سوائے اس کے کہ وہ کوئی غیر شرعی حکم دیں تم نے اطاعت کرنی ہے۔تو یہ عمومی حکم ہر ایک کے لئے ہے۔عہد یداروں کے لئے بھی ہے اور عام احمدی کے لئے بھی ہے۔بلکہ اللہ اور رسول کی طرف لوٹنے کا حکم اس لئے ہے کہ اگر کوئی دنیاوی حاکم کوئی ایسا حکم دے جو غیر شرعی ہو تو اللہ اور رسول سے رہنمائی لو، قرآن اور سنت سے رہنمائی لو۔جماعتی نظام میں تو تمہیں یہ حکم نہیں ملنا جو خلاف شریعت ہو۔نہ خلیفہ وقت کی طرف سے شریعت کے خلاف کوئی حکم دیا جائے گا۔دنیاوی حاکموں کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : "اگر حاکم ظالم ہو تو اس کو برا نہ کہتے پھرو، بلکہ اپنی حالت میں اصلاح کرو۔خدا اس کو بدل دے گا یا اسی کو نیک کر دے گا۔جو تکلیف آتی ہے وہ اپنی ہی بد عملیوں کے سبب آتی ہے۔ورنہ مومن کے ساتھ خدا کا ستارہ ہوتا ہے۔مومن کے لئے خدا تعالیٰ آپ سامان مہیا کر دیتا ہے۔میری نصیحت یہی ہے کہ ہر طرح سے تم نیکی کا نمونہ بنو۔خدا کے حقوق بھی تلف نہ کرو اور بندوں کے حقوق بھی تلف نہ کرو" الحکام جلد 5 نمبر 19 مورخہ 24 مئی 1901 صفحہ 9) تو ہر احمدی کو یہ سوچنا چاہئے کہ حکم عمومی طور پر ہر ایک کے لئے ہے۔اس نے تو بہر حال اپنے نظام اور جو بھی عہدیدار ہے اس کی اطاعت کرنی ہے کیونکہ وہ خلیفہ وقت کا قائم کردہ نظام ہے۔لیکن عہد یداروں کو بھی یہ سوچنا چاہئے کہ انہوں نے اگر اطاعت کے معیار بڑھانے ہیں تو خود بھی اطاعت کے اعلیٰ نمونے قائم