سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 90
سبیل الرشاد جلد چہارم 90 سے اس عہد یدار سے خدمت کا موقع چھین لے گا ، اس کو خدمت سے محروم کر دے گا۔پس تمام عہدیداران تقویٰ سے کام لیتے ہوئے ہمیشہ اپنے فرائض منصبی ادا کریں۔اور آپ کا کبھی کوئی فیصلہ، کبھی کوئی کام نفسانی خواہشات کے زیراثر نہ ہو۔اللہ سب کو اس کی توفیق دے۔خلیفہ وقت اور افراد جماعت کا لطیف تعلق اور عہد یدار ان کی ذمہ داریاں دوسری بات میں احباب جماعت سے یہ کہنا چاہتا ہوں، جیسے کہ پہلے بھی میں کہہ آیا ہوں کہ ایک بہت بڑی تعداد اللہ تعالیٰ کے فضل سے خلافت سے وفا اور اخلاص کا تعلق رکھتی ہے۔لیکن یاد رکھیں یہ ریزولیوشنز ، یہ خط، یہ وفاؤں کے دعوے تب سچے سمجھے جائیں گے، تب سچے ثابت ہوں گے جب آپ ان دعووں کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنا لیں۔نہ کہ وقتی جوش کے تحت نعرہ لگالیا اور جب مستقل قربانیوں کا وقت آئے ، جب وقت کی قربانی دینی پڑے، جب نفس کی قربانی دینی پڑے تو سامنے سوسومسائل کے پہاڑ کھڑے ہو جائیں۔پس اگر یہ دعویٰ کیا ہے کہ آپ کو خدا تعالیٰ کی خاطر خلافت سے محبت ہے تو پھر نظام جماعت جو نظام خلافت کا حصہ ہے اس کی بھی پوری اطاعت کریں۔خلیفہ وقت کی طرف سے تقویٰ پر قائم رہنے کی جو تلقین کی جاتی ہے اور یقیناً یہ خدا تعالیٰ کے حکموں کے مطابق ہی ہے، اس پر عمل کریں۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ نور کی جس آیت میں خلافت کا انعام دیئے جانے کا وعدہ فرمایا ہے اس سے پہلی آیتوں میں یہ مضمون بھی بیان ہوا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اللہ سے ڈرو، اس کا تقویٰ اختیار کرو تو پھر تمہاری کامیابیاں ہیں۔ور نہ پھر کھوکھلے دعوے ہیں کہ ہم یہ کر دیں گے اور ہم وہ کر دیں گے۔ہم آگے بھی لڑیں گے، ہم پیچھے بھی لڑیں گے۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللَّهَ وَيَتَّقْهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِنْ اَمَرْتَهُمْ لَيَخْرُجُنَّ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا طَاعَةٌ مَّعْرُوفَةٌ طَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بمَا تَعْمَلُونَ (النور: 53-54) یعنی جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور اللہ سے ڈرے اور اس کا تقویٰ اختیار کرے تو یہی ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔اور انہوں نے اللہ کی پختہ قسمیں کھائیں کہ اگر تو انہیں حکم دے تو وہ ضرور نکل کھڑے ہوں گے۔تو کہہ دے کہ قسمیں نہ کھاؤ۔دستور کے مطابق اطاعت کرو۔یقینا اللہ جوتم کرتے ہواس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔پس اگر حقیقت میں یہ سچا دعوی ہے تو پھر تقویٰ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کریں، اس کے بندوں کے حقوق ادا کریں، جلسے کے دنوں میں جو نصائح کی گئی تھیں ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔اپنے