سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 91 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 91

91 سبیل الرشاد جلد چہارم اندر پاک تبدیلیاں پیدا کریں۔اپنے اس عہد پر عمل کر کے دکھائیں کہ ہر معروف فیصلے پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔ورنہ یہ عہد یہ دعوے کھو کھلے ہیں۔تم اپنی باتوں سے تو زبانی جمع خرچ میں یہ کہہ سکتے ہو کہ ہاں ہم یوں کرتے ہیں۔لیکن یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ان دعووں کی کنہ تک سے واقف ہے۔اس کو گہرائی تک علم ہے۔دلوں کا حال جانتا ہے۔باتوں کی اصل حقیقت کو جانتا ہے۔اس لئے اس کو دھوکا نہیں دیا جاسکتا۔پس اللہ کا یہ خوف دل میں رکھتے ہوئے ہر احمدی کو اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اگر اس طرح زندگی گزارو گے تو تمہارا خلافت کے ساتھ تعلق بھی مضبوط ہوگا اور کیونکہ یہ تعلق خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہوگا اس لئے اللہ تعالیٰ تم پر اپنا فضل فرماتا رہے گا۔اللہ تعالیٰ نے خلافت کے انعام سے فیض پانے والے ان لوگوں کو قرار دیا ہے جو نیک اعمال بھی بجا لانے والے ہوں۔پس خلافت سے تعلق مشروط ہے نیک اعمال کے ساتھ۔خلافت احمدیہ نے تو انشاء اللہ تعالی قائم رہنا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔لیکن نظام خلافت سے تعلق انہیں لوگوں کا ہو گا جو تقویٰ پر چلنے والے اور نیک اعمال بجالانے والے ہوں گے۔اگر جائزہ لیں تو آپ کو نظر آ جائے گا کہ جن گھروں میں نمازوں میں بے قاعدگی نہیں ہے، ان کا نظام سے تعلق بھی زیادہ ہے۔جو اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے والے ہیں ان کا خلافت اور نظام سے تعلق بھی زیادہ ہے۔اور جن گھروں میں نمازوں میں بے قاعد گیاں ہیں، جن گھروں میں اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنے میں وہ شدت نہیں ہے احمدی ہونے کے باوجو د نظام جماعت کا احترام نہیں ہے ،لوگوں کے حقوق صحیح طور پر ادا نہیں کرتے وہی لوگ ہیں جن کے گھروں میں بیٹھ کر خلیفہ وقت کے بارہ میں بعض منفی تبصرے بھی ہورہے ہوتے ہیں۔تو اپنے آپ کو نظام جماعت اور جماعتی عہدیداران سے بالا بھی وہاں سمجھا جارہا ہوتا ہے۔ایسے لوگ تبصرے شروع کرتے ہیں عہد یداروں سے اور بات پہنچتی ہے خلیفہ وقت تک۔جب نظام جماعت کی طرف سے ان کے خلاف کوئی فیصلہ آتا ہے تو اس پر بجائے استغفار کرنے کے اعتراض ہو رہے ہوتے ہیں۔حالانکہ نظام جماعت میں تو خلافت کی وجہ سے یہ سہولت میسر ہے کہ اگر کسی کو یہ خیال ہو کہ کوئی فیصلہ کسی فریق کی طرفداری میں کیا گیا ہے تو خلیفہ وقت کے پاس معاملہ لایا جاسکتا ہے۔اگر پھر بھی بعض شواہد یا کسی کی چرب زبانی کی وجہ سے فیصلہ کسی کے خلاف ہوتا ہے تو اس کو تسلیم کر لینا چاہئے اور بلا وجہ نظام پر اعتراض نہیں کرنا چاہئے۔کیونکہ یہ اعتراض تو بڑھتے بڑھتے بہت اوپر تک چلے جاتے ہیں۔ایسے موقعوں پر اس حدیث کو ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہئے ، پیش نظر رکھنا چاہئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر کوئی اپنی چرب زبانی کی وجہ سے میرے سے فیصلہ اپنے حق میں کروالیتا ہے حالانکہ وہ حق پر نہیں ہوتا تو وہ آگ کا گولہ اپنے پیٹ میں ڈال رہا ہوتا ہے۔یعنی اس وجہ سے وہ اپنے پر جہنم واجب کر رہا ہوتا ہے اور کوئی بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس فعل کی وجہ سے اس دنیا میں بھی اذیت میں مبتلا