سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 57 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 57

57 سبیل الرشاد جلد چہارم ماحول پر اثر انداز ہو رہے ہوتے ہیں۔اور کیونکہ برائی کے جال میں انسان بڑی جلدی پھنستا ہے اس لئے بہر حال فکر بھی پیدا ہوتی ہے کہ ایسے مغربی معاشرے میں جہاں مادیت زیادہ ہو، اس قسم کی باتیں کہیں اوروں کو بھی اپنی لپیٹ میں نہ لے لیں۔اس وجہ سے میں نے اس موضوع کو لیا ہے۔لیکن کچھ کہنے سے پہلے ذیلی تنظیموں خدام الاحمدیہ اور لجنہ اماءاللہ کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بھی اپنے ماحول میں جائزہ لیتے رہیں۔عموماً جو احمدی کہلانے والے ہیں عموماً ان تک ان کی پہنچ ہونی چاہئے۔جو نو جوان دُور ہٹے ہوتے ہیں ان کو قریب لانا چاہئے تا کہ اس قسم کی ذہنیت یا اس قسم کی با تیں ان کے ذہنوں سے نکلیں " خطبات مسرور جلد 2 صفحہ 867 ) انصار، والدین کو سمجھا ئیں کہ لڑکیوں کی شادی میں تاخیر نہ کریں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 24 دسمبر 2004ء کو خطبہ جمعہ میں لڑکے اور لڑکیوں کی شادیوں کے حوالے سے بعض زریں نصائح فرمائیں۔جس میں بعض ایسے لوگوں کا ذکر کیا جولڑکیوں کی کمائی کی خاطر ان کو گھروں میں بٹھا چھوڑتے ہیں۔جولڑکیوں کی شادی میں تاخیر کا موجب ہوتی ہے۔اس سلسلہ میں حضور انور نے انصار کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا۔بعض لوگ ایسے ہیں جو بیٹیوں کی کمائی کھانے کے لئے اس طرح کر رہے ہوتے ہیں۔بعض بیٹوں کی کمائی کھانے کے لئے اس طرح کر رہے ہوتے ہیں۔اور جو بیٹیوں کی کمائی کھانے والے ہیں وہ صرف اس لئے کہ گھر کے جولڑ کے ہیں وہ نکھے ہیں، کوئی کام نہیں کر رہے پڑھے لکھے نہیں اس لئے گھر بیٹیوں کی کمائی پر چل رہا ہے اور اگر شادی کر بھی دی تو کوشش یہ ہوتی ہے کہ داماد، گھر داماد بن کر رہے ، گھر میں ہی موجود رہے جوا کثر ناممکن ہوتا ہے۔جس سے جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔اس لئے شادی کرنے کے بعد اگر میاں بیوی علیحدہ رہنا چاہتے ہیں اور ان کو توفیق ہے اور والدین عمر کے اس آخری حصے میں نہیں پہنچے ہوتے جہاں ان کو کسی کی مدد کی ضرورت ہو اور کوئی بچہ ان کے پاس نہ ہو، پھر تو ایک اور بات ہے قربانی کرنی پڑتی ہے۔وہ بھی لڑکوں کا کام ہے۔اگر کسی کے لڑکا نہ ہو تو پھر لڑکی کی مجبوری ہے۔لیکن عموماً لڑکی بیاہ کر جب دوسرے گھر میں بھیج دی تو اس کو اپنا گھر بسانے دینا چاہئے۔اور اس طرف جماعتی نظام کے ساتھ ہماری تینوں ذیلی تنظیموں لجنہ ، خدام ، انصار، ان کو بھی توجہ دینی چاہئے۔ان کو بھی اپنے طور پر تربیت کے تحت سمجھاتے رہنا چاہئے۔انصار والدین کو سمجھائیں، لجنہ والدین کو لڑکیوں کو اور خدام لڑکوں کو سمجھائیں" خطبات مسرور جلد 2 صفحہ 933-934)