سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 44 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 44

44 سبیل الرشاد جلد چہارم کوشش کرتا ہے۔تو وہ اس کا مزا تو نہیں لیتا جو قرآن کریم کو پڑھنے، سمجھنے اور غور کرنے سے حاصل ہوسکتا ہے لیکن اپنے اندر تبدیلیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس سے بھی وہ کچھ نہ کچھ حصہ لے رہا ہوتا ہے۔اس مثال میں جس طرح بیان کیا گیا ایسے لوگ ہیں جو دنیا کے دکھاوے کے لئے قرآن کریم پڑھتے ہیں تو قرآن کریم کی خوشبو اس کو پڑھنے کی وجہ سے ماحول میں قائم ہوگی۔کوئی نیک فطرت اس سے فائدہ اٹھالے گا۔لیکن وہ شخص جو دکھاوے کی خاطر یہ سب کچھ کر رہا ہے اس شخص کو اس کا پڑھنا کوئی مٹھاس، کوئی خوشبو میسر نہیں کر سکتی۔کوئی فائدہ اس کو نہیں پہنچے گا۔اور پھر وہ شخص جو نہ قرآن پڑھتا ہے اور نہ اس پر عمل کرتا ہے، اس میں تو فرمایا کہ ایسی منافقت بھر گئی ہے کہ جس میں نہ خوشبو ہے اور نہ مزا ہے۔نہ وہ خود فیض پاسکتا ہے اور نہ ہی کوئی دوسرا اس سے فیض پاسکتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو ایسا بننے سے محفوظ رکھے۔ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں میں سے کچھ لوگ اہل اللہ ہوتے ہیں۔راوی کہتے ہیں اس پر آپ سے دریافت کیا گیا یا رسول اللہ ! خدا کے اہل کون ہوتے ہیں۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن والے اہل اللہ اور اللہ کے (مسند احمد بن حنبل جلد 3 صفحہ 128 مطبوعہ بیروت) خاص بندے ہوتے ہیں۔اہل اللہ بننے کے لئے جیسا کہ پہلی حدیث میں بیان فرمایا گیا ہے۔قرآن کریم کو پڑھنے والے بھی بنیں اور اس پر عمل کرنے والے بھی بنیں۔کامیاب وہی ہے جو قرآن کریم کے ماتحت چلتا ہے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں کہ " کامیاب وہی لوگ ہوں گے جو قرآن کریم کے ماتحت چلتے ہیں۔قرآن کو چھوڑ کر کامیابی ایک ناممکن اور محال امر ہے" (احکام 31 اکتوبر 1901ء) پس ہر احمدی کو اپنی کامیابیوں کو حاصل کرنے کے لئے یہ نسخہ آزمانا چاہئے۔دین بھی سنور جائے گا اور دنیاوی مسائل بھی حل ہو جائیں گے۔آج دیکھ لیں مسلمانوں میں جو لڑائی جھگڑے اور دنیا کے سامنے ذلت کی حالت ہے وہ اسی لئے ہے کہ نہ قرآن پڑھتے ہیں اور نہ اس پر عمل کرتے ہیں۔جو پڑھتے ہیں وہ عمل نہیں کرتے ، سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے تو ظاہر ہے پھر قرآن کو چھوڑنے کا یہی نتیجہ نکلنا تھا جونکل رہا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : یا درکھو قرآن کریم حقیقی برکات کا سرچشمہ اور نجات کا سچا ذ ریعہ ہے۔یہ ان لوگوں کی اپنی غلطی ہے جو قرآن کریم پر عمل نہیں کرتے۔عمل نہ کرنے والوں میں ایک گروہ تو وہ ہے جس کو اس پر اعتقاد ہی نہیں۔اور وہ اس کو خدا تعالیٰ کا کلام ہی نہیں سمجھتے۔یہ لوگ تو بہت دور پڑے ہوئے ہیں۔لیکن وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور نجات کا شفا بخش نسخہ ہے، اگر وہ اس پر عمل نہ کریں تو کس قدر تعجب اور افسوس کی بات ہے۔ان میں سے بہت سے تو ایسے ہیں جنہوں نے