سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 43 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 43

43 سبیل الرشاد جلد چہارم اس حدیث سے قرآن کریم کی مزید وضاحت یہ ہوتی ہے کہ نہ صرف تلاوت ضروری ہے بلکہ اس کو سمجھ کر اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔جو قرآن کریم پڑھتے بھی ہیں اور اس پر غور بھی کرتے ہیں اور اس پر عمل بھی کرتے ہیں وہ ایسے خوشبودار پھل کی طرح ہیں جس کا مزا بھی اچھا ہے اور جس کی خوشبو بھی اچھی ہے۔کیسی خوبصورت مثال ہے۔کہ ایسا پھل جس کا مزا بھی اچھا ہے جب انسان کوئی مزیدار چیز کھاتا ہے تو پھر دوبارہ کھانے کی بھی خواہش ہوتی ہے۔تو قرآن کریم کو جو اس طرح پڑھے گا کہ اس کو سمجھ آ رہی ہوگی اس کو سمجھنے سے ایک قسم کا مزا بھی آ رہا ہو گا اور جب اس پر عمل کر رہا ہو گا تو اس کی خوشبو بھی ہر طرف پھیلا رہا ہو گا۔اس کے احکام کی خوبصورتی ہر ایک کو ایسے شخص میں نظر آ رہی ہوگی۔پس ایسے لوگ ہی ہوتے ہیں جو تقویٰ میں ترقی کرنے والے اور راہ ہدایت پانے والے ہوتے ہیں۔ان کے گھر کے ماحول بھی جنت نظیر ہوتے ہیں۔ان کے باہر کے ماحول بھی پرسکون ہوتے ہیں۔وہ بیوی بچوں کے حقوق بھی ادا کر رہے ہوتے ہیں۔وہ ماں باپ کے حقوق بھی ادا کر رہے ہوتے ہیں۔وہ صلہ رحمی کے بھی اعلیٰ معیار قائم کر رہے ہوتے ہیں۔وہ ہمسایوں کے بھی حقوق ادا کر رہے ہوتے ہیں۔وہ اپنے دنیاوی کاموں کے بھی حق ادا کر رہے ہوتے ہیں اور وہ جماعتی خدمات کو بھی ایک انعام سمجھ کر اس کی ادائیگی میں اپنے اوقات صرف کر رہے ہوتے ہیں۔اور سب سے بڑھ کر وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے، رحمان کے بندے ہوتے ہیں۔ان کے بچے بھی ایسے باپوں کو ماڈل سمجھ رہے ہوتے ہیں اور ان کی بیویاں بھی ان سے خوش ہوتی ہیں اور پھر ایسی بیویاں ایسے خاوندوں کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتی ہیں ، اپنے عملوں کو بھی ان کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتی ہیں اور اس طرح ایسے لوگ بغیر کچھ کہے بھی خاموشی سے ہی ایک اچھے راعی ، ایک اچھے نگران کا نمونہ بھی قائم کر رہے ہوتے ہیں۔ان کا ہمسایہ بھی ان کی تعریف کے گیت گا رہا ہوتا ہے اور ان کا ماحول اور معاشرہ بھی ایسے لوگوں کی خوبیاں گنوا رہا ہوتا ہے۔ان کا افسر بھی ایسے شخص کی فرض شناسی کے قصے سنا رہا ہوتا ہے اور اس کا ماتحت بھی ایسے اعلیٰ اخلاق کے افسر کے گن گا رہا ہوتا ہے اور اس کے لئے قربانی دینے کے لئے بھی تیار ہوتا ہے۔اور اس کے دوست اور ساتھی بھی اس کی دوستی میں فخر محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔یہ خوبیاں ہیں جو قرآن پڑھ کر اس پر عمل کر کے ایک مؤمن حاصل کر سکتا ہے۔بلکہ اور بھی بہت ساری خوبیاں ہیں۔یہاں تو میں ساری گنوا نہیں سکتا۔تو جس کو یہ سب کچھ مل جائے وہ کس طرح سوچ سکتا ہے کہ وہ قرآن کریم پڑھ کر اس پر عمل نہ کرے جب عمل کرنے کے بعد یہ سب کچھ حاصل ہو رہا ہے۔اور پھر جو دوسری مثال اس میں دی کہ جو اتنی نیکی رکھتا ہے گو وہ با قاعدہ گھر میں تلاوت تو نہیں کر رہا ہوتا، ترجمہ پڑھنے والا تو نہیں ہے، اس پر غور کرنے والا تو نہیں ہے لیکن جب بھی جمعہ پر آتا ہے، درسوں پر آتا ہے، نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھتا ہے، وہاں قرآن کریم کی کوئی ہدایت کی بات سن لیتا ہے تو پھر اس پر عمل کرنے کی