سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 398
398 سبیل الرشاد جلد چهارم لیکن درخواست دینے والوں کو ، خاص طور پر پاکستان، ہندوستان یا بعض اور غریب ممالک بھی ہیں ، اُن کو جائز ضرورت کے لئے درخواست دینی چاہئے اور اپنی عزت نفس کا بھی بھرم رکھنا چاہئے۔اسی طرح ذرا بہتر معاشی حالت کے لوگ ہیں تو دیکھا دیکھی وہ بھی بعض چیزوں کی خواہش کرتے ہیں نقل کرتے ہیں۔کسی نئے قسم کا صوفہ دیکھا تو اُس کو لینے کی خواہش ہوئی۔نئے ماڈل کے ٹی وی دیکھے تو اُس کو لینے کی خواہش ہوئی یا اسی طرح بجلی کی دوسری چیزیں یا اور gadget جو ہیں وہ دیکھے تو اُن کو لینے کی خواہش ہوئی۔یا کار میں قرض لے کر بھی لے لیتے ہیں۔ضمناً یہ بھی یہاں بتا دوں کہ آجکل دنیا کے جو معاشی بدحالی کے حالات ہیں اُن کی ایک بڑی وجہ بنکوں کے ذریعہ سے ان سہولتوں کے لئے سُود پر لئے ہوئے قرض بھی ہیں۔سو د ایک بڑی لعنت ہے۔جب چیزیں لینی ہوں تو یہ بھی نہیں دیکھتے کہ یہ اُن کو کہاں لے جائے گا۔بہر حال یہ چیزیں خریدنا یا سود پر قرض دینا ہی ہے جس نے آخر کار بہتوں کو دیوالیہ کر دیا۔بہر حال نقل کی یہ بات ہو رہی تھی کہ لوگ دنیاوی باتوں میں نقل کرتے ہیں اور اس کے حصول کے لئے یا تو عزت نفس کو داؤ پر لگادیتے ہیں یادیوالیہ ہو کر اپنی جائیداد سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔یعنی دنیاوی باتوں کی نقل میں فائدے کم اور نقصان زیادہ ہیں۔لیکن دین کے معاملے میں نقل اور ویسا بننے کی کوشش کرنا جیسا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس زمانے میں ہمارے سامنے نمونہ پیش فرمایا ہے، بلکہ ہم میں سے تو بہت سوں نے اُن صحابہ کو بھی دیکھا ہوا ہے جنہوں نے قرب الہی کے نمونے قائم کئے۔لیکن اُن کی نقل کی ہم کوشش نہیں کرتے جبکہ نقصان کا تو یہاں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ فائدہ ہی فائدہ ہے اور فائدہ بھی ایسا ہے جس کو کسی پیمانے سے ناپانہیں جاسکتا۔پس کیا وجہ ہے کہ ہم اس نقل کی کوشش نہیں کرتے جو نیکیوں میں بڑھانے والی چیز کی نقل ہے۔صاف ظاہر ہے کہ یا تو ہمیں ان چیزوں کا بالکل ہی علم نہیں دیا جاتا جس کی وجہ سے احساس پیدا نہیں ہوتا یا اتنا تھوڑا علم اور اتنے عرصے بعد دیا جاتا ہے کہ ہم بھول جاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اپنے تازہ بتازہ نشانات آج بھی دکھا رہا ہے۔نتیجہ ہماری اس طرف توجہ نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے جبکہ دنیاوی چیزوں کے لئے ہم آتے جاتے ٹی وی پر ، اخبارات پر دس مرتبہ اشتہارات دیکھتے ہیں اور دماغ میں بات بیٹھ جاتی ہے کہ میں نے کسی نہ کسی ذریعہ سے یہ چیز لینی ہے، حاصل کرنی ہے۔اور اگر کسی کو سمجھایا جائے یا کوئی ویسے ہی کہہ دے کہ جب وسائل نہیں ہیں تو اس چیز کی تمہیں کیا ضرورت ہے؟ تو فوراً جواب ملتا ہے کہ کیا غریب کے جذبات نہیں ہوتے ، کیا ہمارے جذبات نہیں ہیں، کیا ہمارے بچوں کے جذبات نہیں ہیں کہ ہمارے پاس یہ چیز ہو۔لیکن یہ جذبات کبھی اس بات کے لئے نہیں ابھرتے کہ الہامات کا تذکرہ سن کر یہ خواہش پیدا ہو کہ ہمارے سے بھی بھی خدا تعالیٰ کلام کرے۔ہمارے لئے بھی خدا تعالیٰ نشانات دکھائے اور اپنی محبت سے ہمیں نوازے۔اس سوچ کے نہ ہونے کی بڑی وجہ یہی ہے کہ ہمارے علماء ، ہمارے مربیان ، ہمارے عہد یداران