سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 78 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 78

78 کے سپرد کرنے کی اس سے پہلے دخل دینے کی اجازت نہ دینے کی اور اس نظام کو جو بڑے گہرے شرعی فلسفے پر مبنی ہے کوئی خلیفہ بھی آئندہ تبدیل نہیں کر سکتا لیکن جو ان کو خلا نظر آ رہا ہے وہ خلا اپنی جگہ موجود ہے اس کی طرف توجہ دلانا خلفاء کا کام ہے اور ماں باپ کو یاد دہانی کروانا جن کے بچے ہیں اور جن کے سپرد ہیں اور جو پوچھے جائیں گے جن کے متعلق قرآن کریم کا حکم ہے قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو آگ کے عذاب سے بچاؤ۔تو سوسائٹی ان بچوں سے زیادہ پیار رکھتی ہے زیادہ، ہمدردی رکھتی ہے، زیادہ ان پر حق رکھتی ہے، بہ نسبت ان کے جنہوں نے بچپن کے زمانہ میں بڑی مصیبتیں جھیل کر اور بڑی قربانیاں دے کر اپنی اولا د کو پروان چڑھایا ہے جو ان کے خون سے بنے ہیں ، ان کی ہڈیوں کے حصے ان میں داخل ہوئے ہیں۔ان کے عملاً جگر گوشے ہیں ان سے ان کو الگ نہیں کیا جا سکتا ہے لیکن ان کی ذمہ داریوں کی طرف ان کو متوجہ کیا جاسکتا ہے۔پھر یہ زمانہ محنت طلب بہت ہے۔اس وقت سوسائٹی کی نظر میں جو بچے ہیں چھوٹی عمر کے بچے ان کو تو بچے صرف اس وقت اچھے لگتے ہیں جب وہ تیار ہو کر سج دھج کر باہر نکل آئیں جب وہ بیمار نہ ہوں ، جب وہ ضد نہ کر رہے ہوں ، جب وہ شور نہ مچارہے ہوں، جب کوئی چیز نہ توڑ رہے ہوں اس وقت وہ سوسائٹی کو بڑے پیارے لگتے ہیں۔جب ان میں سے کوئی حرکت شروع کر دیں تو دیکھنے والوں کے اچانک تیور بدلنے لگتے ہیں۔آپ کے گھر میں بچہ کسی دوست کا آجائے تو آپ دیکھیں آپ کوکتنا پیارا لگے گا اگر وہ بڑ اسجا دھجا اچھی اچھی باتیں کر رہا ہے لیکن جس وقت اس نے آپ کے گلدان پر توڑنے کے لئے ہاتھ ڈالا تو پھر دیکھیں آپ کے تیور کیسے بدلتے ہیں۔جس وقت اس کا کوئی فضلہ نکلا، بد بو پھیلی اور پھر اسی حالت میں کرسیوں پر بیٹھنے لگایا کھانے میں ہاتھ ڈال کر اس نے آپ کے کپڑوں سے ملنے کی کوشش کی پھر آپ کو پتہ چلے گا کہ بچے کیا ہوگا۔اس عمر میں بچوں کو غیروں سے سپرد کر دینا جو اتنا حوصلہ ہی نہیں رکھتے کہ ان کے منفی پہلوؤں میں بھی حو صلے کے ساتھ چل سکیں جن میں استطاعت ہی نہیں ہے کہ وہ ان کے تکلیف دہ حصوں کو کشادہ پیشانی کے ساتھ اور مسکراہٹ کے ساتھ برداشت کر سکیں۔یہ تو ماؤں کا جگرا ہے کہ رات کو بھی اٹھتی ہیں اور ان کی ہر مصیبت اور ہر تکلیف کے وقت ان کا ساتھ دیتیں اور ان کو صاف ستھرا بناتی۔جب وہ تیار ہو کر باہر آجائیں تو ان سے پیار کر لینا یہ تو کوئی اتنی بڑی انسانیت نہیں ہے یہ تو ایک طبعی اور فطری چیز ہے پھول سے بھی تو آپ پیار کر لیتے ہیں۔کانٹے سے پیار، یہ ہے امتحان اور اس امتحان پر مائیں پورا اترا کرتی ہیں یا باپ پورا اترتے ہیں کسی حد تک۔سوسائٹی اس بات کی اہل ہی نہیں ہے کہ وہ اس حالت میں ان بچوں کو پکڑے۔جب شعور کی دنیا میں وہ داخل ہورہے ہو نگے پھر وہ آپ کی دنیا ہو جائے گی پھر آپ بھی شعور کی دنیا میں رہنے والے ہیں آپ ایسی باتیں ان سے کر سکتے ہیں جس کی زبان وہ سمجھیں اور اس زبان میں وہ آپ کو جواب دیں۔