سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 62
62 $1985 ذیلی تنظیمیں ماہانہ ایک اجلاس قیام نماز کے حوالہ سے کریں خطبہ جمعہ 8 نومبر 1985ء) " نظام جماعت کے مختلف حصوں سے، مختلف تنظیموں سے میرا بڑا گہرا تعلق رہا ہے۔بچپن میں اطفال الاحمدیہ میں ، پھر خدام الاحمدیہ میں، پھر انصار اللہ میں اور خصوصاً نماز کے معاملہ میں خدا تعالیٰ مجھے توفیق عطا فرما تارہا ہے کہ ہر جگہ کچھ نہ کچھ کوشش کروں اور میں نے یہ دیکھا ہے کہ ہمارے اچھے سے اچھے کارکن بھی صبر کے لحاظ سے ابھی بہت زیادہ محروم تو نہیں کہنا چاہئے مگر ان میں گنجائش بہت موجود ہے کہ وہ اس حالت کو بہتر کریں۔صبران معنوں میں کہ مستقل مزاجی بھی صبر کا ایک حصہ ہے صبر کا مضمون بہت وسیع ہے۔تو استقلال کے لحاظ سے بھی بہت کمی واقعہ ہے۔ہمارے اچھے اچھے کارکن بھی اچھا کام جوش کے ساتھ چند دن کر لیتے ہیں اور اس کے بعد پھر آہستہ آہستہ تھک کر چھوڑ دیتے ہیں اور نماز وہ آخری چیز ہے جس سے آپ کو تھکنا چاہئے۔مطلب یہ ہے کہ اس میں آپ کو تھکنے کی کوئی گنجائش نہیں۔تمام قرآن میں سب سے زیادہ زور نماز پر ہے۔قرآن کریم میں زکوۃ سے پہلے صلوٰۃ ہے اور زکوۃ کا مضمون بھی پھر آگے بہت وسعت اختیار کر جاتا ہے، اس کی طرف انشاء اللہ آئندہ توجہ دلاؤں گا لیکن ہر ایمان کے بعد سب سے پہلے صلوٰۃ کا ذکر ہے اور تمام دنیا کے مذاہب میں جہاں کہیں بھی کوئی مذہب آیا ہے۔تمام قرآن کریم کے بیان کے مطابق نماز پر ہر نبی زور دیتا رہا ہے۔نماز حفاظت کرتی ہے۔نماز ایک ساتھ رہنے والا مربی ہے۔جس شکل میں بھی کسی قوم نے کبھی خدا کی عبادت کی تھی ہر نبی نے سب سے زیادہ اس عبادت پر زور دیا تھا اور ہے ہی مقصود وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونَ ) (الذاریات: 57) میں نے تو جنوں اور انسانوں کو پیدا ہی نہیں کیا سوائے اس کے کہ وہ میری عبادت کریں۔اور عبادت کا معراج نماز ہے یعنی عبادت کی جو رسمی شکل ہے ظاہری نماز ہے اور اس کو پھر قائم کر کے پھر اس کو بھرنا ہے ہم نے کئی طریق سے اس پر غور کرنا ہے کہ کس طرح انمیں زیادہ حسن پیدا کرنا ہے، سمجھانا ہے۔خود بھی نماز باترجمہ سیکھیں اور بچوں کو بھی سکھلائیں ابھی تو آپ میں سے یعنی شاید آپ کو کبھی خیال نہ آیا ہو لیکن اکثریت ایسی ہے جن کو یہ نہیں پتہ کہ