سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 47 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 47

47 نظام جماعت نماز سے غافل بچوں کو سمجھانے میں مدد کرے دوسرا پہلو یہ ہے کہ ایسے کارکنان کی اولادیں نماز سے غافل ہورہی ہیں۔ہرصورت میں تو نعوذ باللہ ایسا نہیں ہے لیکن اگر سلسلے کے دس فیصدی کارکن بھی ایسے ہوں جن کی اولادیں نماز سے غافل ہیں تو یہ بڑی خطر ناک بات ہے۔اور میرے نزدیک ایسے کارکنان کے بچوں کی تعداد جو عملاً نماز سے غافل ہو چکے ہیں اس سے زیادہ ہے اس لئے انکی طرف بھی توجہ دینا ضروری ہے۔نظام جماعت کو ان کے بچوں کو سنبھالنے میں ایسے کارکنوں کی مدد کرنی چاہئے لیکن اصل میں تو گھر ہی تربیت کا گہوارہ ہے اور گھر کے معاملے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم یہ ہے کہ باپ اپنی اولادکا ذمہ دار ہے۔قرآن کریم نے مختلف رنگ میں بڑے ہی گہرے اثر کرنے والے انداز میں اس مضمون کو پھیر پھیر کر بیان فرمایا ہے۔کہیں حضرت اسمعیل علیہ السلام کی مثال دی کہ وہ کس طرح صبح اٹھ کر با قاعدہ اپنے گھر والوں کو نماز کی تعلیم دیا کرتے تھے وہ بڑے صبر کے ساتھ اس پر قائم رہے اور ساری زندگی اس کام سے تھکے نہیں۔کہیں یہ فرمایا: لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَانسَهُمْ أَنْفُسَهُمْ ط أُولئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (الحشر : 20) کہ دیکھو! ان بدقسمتوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے ایک دفعہ اللہ کو یا دکیا اور پھر اسے ہمیشہ کے لئے بھلا دیا۔فَانسَهُمْ أَنْفُسَهُمُ پس اللہ نے ان کو خود اپنے آپ سے بھلوا دیا۔ان کو اپنے نفوس کی اور اپنے اموال کی خبر نہ رہی۔ان کو اچھے برے کی تمیز نہ رہی۔انسان کے لئے سب سے بڑی ہلاکت انسان کے لئے سب سے بڑی ہلاکت یہ ہوا کرتی ہے کہ اسے اچھے برے کی تمیز نہ رہے اس کو اپنے حقیقی مقصد اور فائدے کا علم نہ ہو اور اسی کا نام پاگل پن ہے۔اس کے سوا پاگل پن کی کوئی اور تعریف بنتی ہی نہیں۔ہر وہ شخص جو اپنے مفاد کے متعلق نہ جان سکے کہ میرا اصل مفاد کس بات میں ہے وہ ایسی باتیں کرتا ہے کہ آپ کہتے ہیں کہ پاگل ہو گیا ہے۔کوئی اپنی جائیداد ضائع کردے یا کوئی ایسی بات کرے کہ لوگ کہیں۔بیہودہ حرکت کر رہا ہے اور لوگوں کے سامنےبدنام ہورہا ہو تو وہ بھی پاگل ہے الغرض ہر بات میں پاگل پن کا خلاصہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے مفاد سے بے خبر ہو جائے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَانسَهُمْ أَنْفُسَهُم وہ ان لوگوں کو پاگل کر دے گا۔ان کو اپنی بھی ہوش نہیں رہے گی۔ان کو پتہ نہیں ہوگا کہ کس چیز میں ہمارا فائدہ ہے اور کس میں نہیں ! اس لئے کہ اللہ جو ہر بات کا آخری۔Reference ہے اس کو انہوں نے بھلا دیا۔اگر خدا سے تعلق جوڑ کر راہنمائی حاصل نہ کی جائے تو