سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 48 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 48

48 نہ افراد اپنی راہنمائی کے اہل ہوتے ہیں۔نہ قو میں اپنی رہنمائی کی اہل ہوتی ہیں ساری دنیا میں تباہیوں کا جو نقشہ نظر آرہا ہے اس کی وجہ خدا سے لا تعلقی ہے حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں کبھی کوئی قوم اپنی عقل پر انحصار کر کے زندہ نہیں رہ سکتی۔محض عقل پر انحصار کر کے لوگ ایسی خوفناک غلطیاں کرتے ہیں کہ خود بھی ڈوبتے ہیں اور دوسروں کو بھی لے ڈوبتے ہیں۔پس فرمایا فَانسَهُمْ أَنْفُسَهُمُ جب بھی لوگ خدا سے غافل ہوئے اور اس کی عبادت کا حق ادا کرنا چھوڑ دیا تو نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ نے ان کو پاگل کر دیا کیونکہ انہوں نے عقل اور رشد کے رچشمے سے منہ موڑ لیا۔”پاگل کر دیا“ کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے ایسا فعل کیا جس کے نتیجہ میں وہ لازماً اپنی عقلوں کو کھو بیٹھے احمق بن گئے ، بیوقوف ہو گئے۔الغرض خدا کی عبادت سے غافل ہونے کی ایک یہ سزا بھی بیان فرمائی۔بچوں کی تربیت پر توجہ دیں حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے بچوں کی عبادت کا خیال نہیں کرتے ان کی اولاد میں لازماً ہلاک ہو جایا کرتی ہیں اس لئے وہ اس طرف توجہ کریں اور اپنی اولاد کو اپنے ہی ہاتھوں سے قتل نہ کریں۔الغرض اللہ تعالیٰ نے مختلف رنگ میں نصیحت فرمائی ہے اور بچوں کی تربیت کی طرف توجہ دلائی ہے اس معاملے میں اگر چہ مردوں کو پابند کیا گیا ہے لیکن اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ جب مرد باہر ہوتا ہے تو عورت اسکی جگہ لے لیتی ہے اور اس پر بھی تربیت کی ایک بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔مرد کو اس لئے ذمہ دار قرار دیا ہے کہ اسے عورت پر قوام بنایا گیا ہے اگر عورت کو ذمہ دار بنایا جا تا تو مرد اس ذمہ داری سے باہر رہ جاتے۔مرد کوذمہ دار بنایا تا کہ صرف بچے ہی اس کے تابع نہ رہیں بلکہ عورت بھی تابع رہے اور مرد اس کو بھی پا بند کرے اور اس طرح سارا نظام تربیت کے دائرے کے اندر جکڑا جائے۔مائیں نمازی ہوں تو اولا د بھی نمازی ہوتی ہے جہاں تک میں نے جائزہ لیا ہے۔میرا تاثر یہ ہے کہ جو مائیں بے نماز ہوتی ہیں۔اگر باپ کوشش بھی کریں تب بھی ان کی کوشش اتنا اثر نہیں رکھتی جتنا اس صورت میں کہ جب مائیں نمازی ہوں۔اسی لئے قرآن کریم مردوں کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ سب سے پہلے اپنی عورتوں کی حفاظت کرو اور انکوتر بیت دو چنانچہ حضرت اسمعیل علیہ السلام والی مثال میں بچوں کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ یہ فرمایا کہ وہ اپنے خاندان کے ہر فرد کو نماز کی تعلیم دیتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی یہی طریق تھا کہ آپ اپنی بیویوں کو نماز کیلئے اٹھاتے تھے پھر بچوں اور دامادوں کو بھی جگایا کرتے تھے۔چنانچہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے متعلق آتا ہے کہ حضور ان کے ہاں گئے اور فرمایا اٹھو نماز کا اور عبادت کا وقت ہو گیا ہے۔