سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 468
468 کہ گویا وہ اپنی فرمانبرداری کے آئینے میں اپنے محبوب حقیقی کو دیکھ رہا ہے "۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات کو آپ غور سے پڑھا کریں تو پھر آپ کو ان ارشادات کی لطیف باتیں سمجھ آ سکتی ہیں۔اپنے تمام وجود کو سر سے پاؤں تک ، تمام وجود کو، جو جان بیچتا ہے وہ اس میں سے کچھ بھی نہیں رکھتا۔" جو طاعت خلق اور خدمت خلق اور خدمت مخلوق کے لئے بنائی گئی ہے"۔پھر حقیقی نیکیاں جو ہر ایک قوت سے متعلق ہیں یعنی انسان کو اللہ تعالیٰ نے جتنی بھی صلاحیتیں بخشی ہیں ان تمام صلاحیتوں سے کام لیتے ہوئے وہ اللہ کے دین اور اس کی مخلوق کی خدمت کرتا ہے اور ہر ایک کی صلاحیتیں الگ الگ ہیں مگر جس چھا بڑے میں جو کچھ ہو گا وہی تو بیچے گا۔پس ایک غریب انسان بھی اسی طرح اپنا سب کچھ بیچنے والا بن جاتا ہے جس طرح ایک امیر انسان اپنا سب کچھ بیچنے والا بن جاتا ہے۔توفیق تو اس کی اپنی بنائی ہوئی نہیں، توفیق تو اللہ تعالیٰ سے حاصل ہوتی ہے۔پس مِما رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ کا یہ معنی ہے کہ جو کچھ وہ بیچتا ہے وہ وہی کچھ ہے جو ہم نے اس کو دیا تھا اس میں سے پھر کچھ اپنے لئے نہیں رکھتا تمام تر پیش کر دیتا ہے۔پس اگر کسی کی قسمت میں کسی کے مقدر میں ایک کھوٹی کوڑی بھی ہو یعنی کچھ بھی نہ ہو تو اپنا خالی دامن لے کر اس میں خدا کی محبت اور تمناؤں سے جھولی بھر کر بظاہر خالی دامن میں اپنی محبت اور نیک تمناؤں کی جھولی اٹھائے ہوئے خدا کی خدمت میں حاضر ہو جاتا ہے وہ بھی وہی ہے جس نے سب کچھ بیچ دیا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں " ایسے ذوق وشوق اور حضور دل سے بجالاتا ہے"۔میں نے جو یہ کہا تھا تمنا ئیں اور محبتیں لے کے حاضر ہوتا ہے یہ اس کا ترجمہ ہے، حضور دل سے بجالاتا ہے اس کا دل تمام تر یہ چاہتا ہے کہ جس حد تک خدمت ممکن ہے میں کروں۔" گویا وہ اپنی فرمانبرداری کے آئینے میں اپنے محبوب حقیقی کو دیکھ رہا ہے"۔اس کی فرمانبرداری کا ایک شیشہ اس کے سامنے ہے اور اس میں اسے اپنی ذات دکھائی نہیں دیتی وہ محبوب دکھائی دیتا ہے جس کی خاطر اس نے اپنی ساری زندگی کو ایک نئی صورت میں ڈھال دیا۔" اور ارادہ اس کا خدا تعالیٰ کے ارادے سے ہم رنگ ہو جاتا ہے "۔جو اللہ کا ارادہ وہی اس کا ارادہ، جو مالک کا ارادہ وہی غلام کا ارادہ۔" اور تمام لذت اس کی فرمانبرداری میں ٹھہر جاتی ہے "۔اب یہ لفظ " ٹھہر جاتی ہے " قابل غور ہے۔فرمایا کہ اس کو اللہ تعالیٰ کی رضا میں ایسی لذت نہیں ملتی کہ جو آئے اور چلی جائے وہ لذت اس کے دل میں پناہ گزین ہو جاتی ہے۔وہ لذت ایسی ٹھہرتی ہے کہ پھر جانے کا نام نہیں لیتی۔پس وہ سب لوگ مستثنی ہیں جو کبھی اللہ کی رضا میں محبت پاتے ہیں، مزہ دیکھتے ہیں اور کبھی نہیں دیکھتے۔بہت سے ایسے انسان ہیں، کثرت سے ایسے انسان ہیں جو اللہ کی رضا سے کبھی نہ کبھی تو ضرور لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن اپنی