سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 456 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 456

456 رمضان سے پہلے ہم سب لوگ زندہ رہیں گے۔لازماً ہم میں سے وہ معین لوگ موجود ہیں جو اس وقت اس خطبے میں حاضر ہیں مگر بعید نہیں کہ ان کو اگلا خطبہ بھی نصیب نہ ہو ، بعید نہیں کہ اگلے مہینے کے خطبے نصیب نہ ہوں یا نماز میں نصیب نہ ہوں اگلے سال کی بات تو بہت دور کی بات ہے۔پس اس پہلو سے خدا تعالیٰ نے جو یہ توجہ دلائی شروع میں کہ تم نے مرنا ہے، پیش ہونا ہے یہ خیال آپ کو تقویت بخشے گا نیکی کے ارادے کرنے میں آپ کی مدد کرے گا۔جب موت کا وقت آجائے گا پھر کچھ نہیں ہو سکے گا اور سب پر آنا ہے۔عبادت سے دوسری نیکیاں نصیب ہوتی ہیں اس لئے وہ لوگ جو دنیا کی زندگی سے خوش ہیں وہ سوچ کرتو دیکھیں کہ جب موت کا وقت آئے گا تو ایسی بے قراری ہوگی کہ کچھ پیش نہیں جائے گی۔وہ چاہیں گے کہ ہم واپس ہوں تو پھر کچھ کریں لیکن اللہ اس خیال کو رد فرما دے گا ار یہ ساری زندگی ہاتھ سے نکل جائے گی اور دار الجزاء آگے لامتناہی سامنے کھڑا ہوگا تو مرنے سے پہلے کچھ کرو۔اور موت کا نہ دن معین ہے نہ وقت معین ہے اس لئے اپنی زندگی کو عبادت کے ساتھ ساتھ دوسری نیکیاں ضرور نصیب ہوتی ہیں۔اس لئے جب آپ نمازیں پڑھتے ہیں تو نمازوں کے ساتھ بنی نوع انسان کی ہمدردی میں خرچ کرنے کی بھی توفیق ملتی ہے دوسری نیکیوں کی بھی توفیق ملتی ہے۔یہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان ایک قدم خدا کی طرف جاتا ہے تو خدا دس قدم آتا ہے۔چل کر جاتا ہے تو اللہ دوڑ کر اس کی طرف آتا ہے اس سے یہ مراد ہے کہ ہر طرف سے پھر خدا آنے لگتا ہے۔آپ نے نماز پڑھی تو اللہ تعالیٰ آپ کو دس اور نیکیوں کی توفیق بخش دیتا ہے جن کے ذریعہ خدا کا قرب حاصل ہوتا ہے اور ہر نیکی پھر آگے نیکیوں کے بچے دیتی چلی جاتی ہے۔تو انسانی زندگی میں ایک انقلاب آنا شروع ہو جاتا ہے۔ایسا شاذ کے طور پر ہوتا ہے کہ یہ انقلاب اچانک آئے اور کسی کی کایا پلٹ جائے کہ گویا اچا نک نیا وجود پیدا ہو گیا ہے۔ایسا بھی ہوتا ہے مگر بہت شاذ کے طور پر۔قاعدہ کلیہ یہی ہے کہ آپ نیکی کا ایک فیصلہ کر لیں اور پورے عزم کے ساتھ اس پر قائم ہو جائیں اور خدا سے اقرار کریں کہ اے میرے خدا میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میں تیرے حضور آگے بڑھنے کی کوشش کروں گا۔تیرے حضور سر جھکانے کی کوشش کروں گا۔اپنی رضا کو تیری رضا کے تابع کرنے کی کوشش کروں گا۔میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ مرنے سے پہلے اس حال میں تجھ تک پہنچوں کہ پھر آگ میرا انتظار نہ کر رہی ہو بلکہ تیری رضا میرا انتظار کر رہی ہو۔نیکیوں کی طرف آنے کا فیصلہ لیلۃ القدر سے کم نہیں یہ فیصلہ ہے جو آج آپ کی تقدیر بدل دے گا۔یہ فیصلہ ہے جسے نصیب ہو جائے اسے لیلۃ القدر بھی